امریکا نے شام کے رہنما احمد الشرع کی گرفتاری پر مقرر کردہ انعام کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سینئر امریکی سفارت کار باربرا لیف نے دمشق میں احمد الشرع سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے انعام ختم کرنے کا فیصلہ ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثبت اقدامات اور وعدوں کے باعث کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آگے بڑھنے کے لیے الشرع کے اقدامات کا بغور جائزہ لے گا اور ان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔باربرا لیف نے مزید کہا کہ امریکا شام کے اندر ایک جامع سیاسی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کی قیادت شام کے لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت تشکیل پائے جو تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرے، بشمول خواتین اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے۔ امریکا کا موقف ہے کہ شام کے عوام کی جانب سے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے۔
امریکا نے کئی برسوں تک احمد الشرع کی گرفتاری پر انعام مقرر کیا تھا۔ احمد الشرع شام کے ایک اسلام پسند گروپ "ہیت تحریر الشام" (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ ہیں، اور ان کی قیادت میں شام میں اسد خاندان کے 50 سالہ آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے لیے کئی سیاسی اور عسکری کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں شام میں جابرانہ حکومت کے خلاف اہم رہی ہیں۔امریکا کی طرف سے انعام کے خاتمے کا مقصد الشرع کی طرف سے کی جانے والی مثبت تبدیلیوں اور دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی جنگ کو سراہنا ہے۔ امریکا نے یہ بھی کہا کہ وہ شام میں جمہوری عمل کی حمایت جاری رکھے گا، جس میں تمام نسلی، مذہبی گروہوں کی نمائندگی اور حقوق کا احترام کیا جائے۔