دمشق: بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں پہلی عبوری پارلیمنٹ کے انتخابات مکمل ہو گئے، تاہم انتخابات کو غیر جمہوری قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اسمبلی کی 210 نشستوں میں سے 70 ارکان براہِ راست عبوری رہنما احمد الشرع کی جانب سے نامزد کیے جائیں گے۔
انتخابات میں 1500 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں جن میں صرف 14 فیصد خواتین شامل ہیں۔ دروز اکثریتی صوبہ السویدا اور کرد زیرِ انتظام شمال مشرقی علاقوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جس کے باعث 32 نشستیں خالی رہیں۔عبوری پارلیمنٹ 30 ماہ کے لیے قانون سازی کرے گی، اور مستقل آئین کی تیاری کے بعد نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ عمل الشرع کی طاقت کو مزید مستحکم کرتا ہے اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی محدود رہتی ہے۔