عمران خان کا طبی معائنہ، عظمیٰ خان کی موجودگی میں ڈاکٹروں نے صحت مند قرار دیا:عطا تارڑ

عمران خان کا طبی معائنہ، عظمیٰ خان کی موجودگی میں ڈاکٹروں نے صحت مند قرار دیا:عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا طبی معائنہ ان کی بہن محترمہ عظمیٰ خان کی موجودگی میں کیا گیا، جس میں ڈاکٹروں نے انہیں صحت مند قرار دیا۔

عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب، مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں ماہر امراض چشم، امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی جائزہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے معائنے کے بعد عمران خان کو صحت مند قرار دیا۔ اس دوران ان کی ہمشیرہ، محترمہ عظمیٰ خان، طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل میں موجود رہیں۔تمام طبی مراحل مکمل ہونے کے بعد، عمران خان کو 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کیا گیا۔

بعد میں ایک اور ٹوئٹ میں، وزیر اطلاعات نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ طبی معائنہ پمز اسپتال میں کیا گیا، جس میں الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے الشفا اسپتال کے راستے اور باہر سیکیورٹی کے حالات پیدا کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ عمران خان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر آئندہ بھی فراہم کی جائیں گی۔