فضل الرحمن متحدہ اپوزیشن بنانے کا اعلان محمود اچکزئی

 یہ پہلی نشست تھی، آئندہ مزید مشاورت بھی ہوگی ،مشترکہ حکمت عملی طے کرینگے: : اپوزیشن رہنماء￿ 
 حکومت کی پی پی کو منانے کی کوشش ، ایاز صادق سے راجہ پرویز کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کے وفد کی ملاقات 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے گزشتہ روز اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی اور اس دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد متحدہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،اپوزیشن کیپارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، چیف وہپ عامر ڈوگر، ارکان قومی اسمبلی عاطف خان، شہرام تراکئی، ثناء￿  اللہ مستی خیل ، علی اصغر خان، رکن صوبائی اسمبلی آصف محسود اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی جبکہ جے یو آئی (ف)کی طرف سے رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور مولانا کمال الدین موجود تھے، اس موقع پر حکومتی پالیسیوں، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے کردار اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کیلئے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ، ا س دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اپوزیشن قائدین نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کو جلد از جلد ہسپتال منتقل کیا جائے ،سابق وزیراعظم کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ انسانی اور طبی بنیادوں پر انہیں فوری اور مناسب علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کے ساتھ حکومتی رویے اور طرز عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اپوزیشن رہنما ئوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کی آواز سنی جاتی ہے، اسے دبایا نہیں جاتا۔ملاقات سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو اب تک بانی پی ٹی آئی کا علاج بھی ہوچکا ہوتا۔دریں اثناء ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ آج پہلی بیٹھک ہوئی،یہ پہلی نشست تھی، آئندہ مزید مشاورت ہوگی، تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اور ایک ساتھ اپوزیشن کریں گی،رابطوں کو آگے بڑھایا جائے گا اور مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی، آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈروں سے مشاورت ہوئی ہے، اصولی طورپر اتفاق ہوا ہیکہ ہمیں متحدہ اپوزیشن کی طرف جانا چاہیے، ہم مشترکہ پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے لیے بھی ماحول بننا چاہیے، ہم نے فیصلہ کیا ہے متحدہ اپوزیشن بنائی جائے گی۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا پیپلزپارٹی کو ساتھ ملائیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت میں ہے ، ہم اپوزیشن کی بات کر رہے ہیں۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی یا صرف پارلیمنٹ میں متحد رہیں گی؟۔ مولانا فضل الرحمن نے جواب دیتے کہاہم سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں، آپ سورۃالناس پر پہنچ جاتے ہیں،متحدہ اپوزیشن کے قیام کے حوالے سے یہ ابتدائی نشست تھی اور آئندہ مشاورت کے بعد مزید فیصلے کریں گے۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف)اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں متحدہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس بھی آج بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی پر غور اور پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے کردار کو مزید م ئوثر بنانے پرمشاورت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات کی جائے گی جس میں سیاسی صورتحال اور مشترکہ حکمت عملی سمیت مختلف امور پر مزید تبادلہ خیال متوقع ہے، آئندہ اجلاسوں میں متحدہ اپوزیشن کے دائرہ کار، مشترکہ سیاسی حکمت عملی اور پارلیمانی کردار سے متعلق امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق نے حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے پل کا کردار ادا کرنے پراتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ پیپلزپارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پارلیمنٹ ہا ئوس کے صدارتی چیمبر میں ملاقات کی، راجہ پرویز اشرف کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کے وفد میں نوید قمر،اعجاز جاکھرانی و دیگر رہنما شامل تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی نے قانون سازی و دیگر پارلیمانی امور پر اپنے تحفظات سپیکر کے سامنے رکھے،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اختلافات کے خاتمے کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔