جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اتفاق سپیکر نے فوج‘عدلیہ کیخلاف تقاریر کا ریکارڈ مانگ لیا

جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی وفد کے اعزاز میں  اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ دیا ‘دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے محموداچکزئی پر اتفاق کیا
 آئین کے مطابق ایوان میں افواج پاکستان اور اعلی عدلیہ یا ان کے ججز پر تنقید نہیں کی جاسکتی‘سپیکر قومی اسمبلی کے تمام قواعد و ضوابط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں گے
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن) جے یو آئی اور پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اتفاق کرلیا۔جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی وفد کے اعزاز میں  اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ دیا جس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر، شہرام ترکئی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ ملاقات میں سیاسی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو متحد کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ،دونوں جماعتوں میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر اتفاق ہوگیا‘دریں اثناء سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کی افواج پاکستان اور اعلی عدلیہ کے خلاف تقاریر کا ریکارڈ طلب کر لیا۔محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے معاملے پر ذرائع نے بتایا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کی افواج پاکستان اور اعلی عدلیہ کے خلاف تقاریر کا ریکارڈ طلب کر لیا، سپیکر نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی مختلف شقوں کا بھی جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق آئین کے مطابق ایوان میں افواج پاکستان اور اعلی عدلیہ یا ان کے ججز پر تنقید نہیں کی جاسکتی،سپیکر اس سے قبل محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنیوالے 74 اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کے احکامات جاری کر چکے ہیں ۔ذرائع قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر نے ابھی تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، سردار ایاز صادق اس حوالے سے آئین قانون اور قومی اسمبلی کے تمام قواعد و ضوابط کا جائزہ لیکر فیصلہ کرینگے۔