وفاقی حکومت کے اپوزیشن سے رابطے، وفد کی محمود اچکزئی اور ناصر عباس سے ملاقات ، آج پیپلزپارٹی کے رہنما اپوزیشن لیڈرسے ملیں گے

شرمیلا فاروقی ن لیگ ، پیپلز پارٹی میں کشیدگی 
کشمیر الیکشن کے بعد حالات کہیں بھی جا سکتے ہیں: شرمیلا فاروقی ،ن لیگی رہنماؤں کی چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہر کے گھر آمد،وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کیلئے جگہ کے تعین پر بات ہوئی، :طارق فضل، کوئی گلہ شکوہ نہیں:رانا ثنا اللہ 
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے پی پی اور ن لیگ کے آپسی حالات کشمیر الیکشن کے بعد بہت کشیدہ ہیں، حالات کہیں بھی جا سکتے ہیں۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شرمیلا فاروقی نے کہا انتظامی یونٹس بنانے ہیں تو بحث قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونی چاہیے، ٹی وی چینلز پر نہیں۔دوسری طرف وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل اور مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ پر مشتمل حکومتی وفد نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما اپوزیشن لیڈرزسے آج ملیں گے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومتی وفد نے محمود خان اچکزئی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، اس دوران سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس بھی شریک ہوئے ، ملاقات میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم کو لکھے گئے خط اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ممکنہ ملاقات پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور فریقین کے درمیان مختلف امور پر سود مند تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور آئینی و سیاسی امور سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو کی گئی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کوئی گلہ شکوہ نہیں وزیراعظم خط کا جواب دے رہے ہیں اس پر بات چیت ہوئی۔طارق فضل نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک آئینی مشاورتی خط ارسال کر رکھا ہے، جس کے حوالے سے ملاقات میں بات چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی سے ہونے والی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس میں سود مند گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے جگہ کے تعین کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس ملاقات کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے گئے خط کا جواب بھی دیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے برقرار رہیں گے اور بات چیت کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ملاقات میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس کی موجودگی بھی اہم رہی۔ اس موقع پر سیاسی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ممکنہ ملاقات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری رابطہ کاری کو مزید آگے بڑھانے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ فریقین کے درمیان آئینی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گی اور محمود خان اچکزئی کے آئینی مشاورتی خط پر وزیراعظم کو باضابطہ طور پر آگاہ کرنے کے بعد جواب بھی دیا جائے گا۔دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے وفد نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کے گھر جا کر ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کے میڈیا آفس کے مطابق وفد میں وفاقی وزرا رانا ثنا آ، ڈاکٹر طارق فضل اور صدر (ن) لیگ آزاد کشمیر شاہ غلام قادر ، سینیٹر انوشہ رحمان، ایم این اے انجم عقیل خان اور دیگر اہم رہنما شامل تھے۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وفد نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔وفد نے مرحومہ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے وفد بھیج کر واضح پیغام دیا کہ سیاسی اختلافات صرف سیاسی میدان تک محدود ہیں۔علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کا وفد آج منگل کے روز اپوزیشن لیڈرمحمودخان اچکزئی سے ملاقات کرے گا۔ ذرائع کے مطابق وفد میں راجہ پرویزاشرف، نوید قمر، شیری رحمان اورسلیم مانڈوی والا شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، پارلیمانی ودیگراہم امورپر مشاورت کی جائے گی، جمہوری اداروں کو موثراورمضبوط بنانے کیلئے باہمی تعاون، مشترکہ حکمت عملی پر مشاورت کی جائیگی۔ملاقات میں پیپلزپارٹی اوراپوزیشن کے درمیان پارلیمان کے اندراورباہرمشترکہ جدوجہد پر بھی مشاورت کی جائے گی۔