پوپ لیو چہاردہم نے امریکی مڈٹرم انتخابات میں ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی، پہلے ووٹ دینے والے پوپ بن گئے

پوپ لیو چہاردہم نے امریکی مڈٹرم انتخابات میں ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی، پہلے ووٹ دینے والے پوپ بن گئے

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکی شہری کی حیثیت سے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کرکے تاریخ رقم کردی۔

 وہ امریکی انتخابی تاریخ میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویٹی کن نے جمعے کو تصدیق کی کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم نے امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔ پوپ لیو کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے اور وہ شکاگو میں پیدا ہوئے تھے۔ویٹی کن کے پریس آفس کے مطابق پوپ لیو نے امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنا جمہوری حق استعمال کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جب بھی پوپ ووٹ ڈالنے کے اہل رہے، انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا اور اپنی شہری ذمہ داری پوری کی۔ویٹی کن حکام نے مزید بتایا کہ پوپ لیو نے پیرو میں قیام کے دوران بھی امریکی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کیا تھا، جہاں انہوں نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مشنری پادری اور بشپ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ویٹی کن کے بیان میں کہا گیا کہ پوپ لیو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شہریوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے نزدیک ووٹ کا استعمال معاشرے اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے شہریوں کی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے۔

پوپ لیو کے پاس دوہری شہریت

پوپ لیو چہاردہم کے پاس امریکا اور پیرو دونوں ممالک کی شہریت ہے، جبکہ وہ ویٹی کن سٹی کے سربراہِ مملکت بھی ہیں۔ ویٹی کن میں بادشاہت کا نظام رائج ہے، جہاں پوپ ریاست کے سربراہ اور اعلیٰ ترین مذہبی پیشوا کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے وہاں عام سیاسی انتخابات کا نظام موجود نہیں۔

غیر ملکی سربراہ بھی امریکی انتخابات میں ووٹ دے سکتا ہے؟

امریکی وفاقی قانون کے تحت بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں کو ڈاک یا غیر حاضر ووٹنگ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ سہولت ان امریکی شہریوں کو بھی دستیاب ہے جو بیرون ملک کسی دوسری ریاست یا حکومت کے لیے خدمات انجام دے رہے ہوں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کسی دوسرے ملک کے سربراہِ مملکت کا عہدہ رکھنے والے امریکی شہری کی شہریت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، تاہم محض کسی غیر ملکی ریاست کا سربراہ بننے سے امریکی شہریت خودکار طور پر ختم نہیں ہوتی۔