ٹرمپ کا پوپ لیو کے ایران تبصرہ پر سخت ردعمل: کہتے ہیں، ایسا پوپ نہیں چاہئے

ٹرمپ کا پوپ لیو کے ایران تبصرہ پر سخت ردعمل: کہتے ہیں، ایسا پوپ نہیں چاہئے

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کی ایران اور وینزویلا سے متعلق پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسا پوپ نہیں چاہیے جو امریکہ کے خلاف تنقید کرے یا عالمی امور میں مداخلت کرے۔

 ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ایسے پوپ کی ضرورت ہے جو امریکہ کے مفادات کا دفاع کرے اور سیاست سے علحیدہ رہے، نہ کہ وہ بائیں بازو کے نظریات کو فروغ دے یا خارجہ پالیسی پر تنقید کرے۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی لوئس پوپ لیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ پسند ہیں کیونکہ وہ امریکہ کے حق میں ہیں اور سمجھداری سے بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے پوپ کو ترجیح دیتے ہیں جو ایران کے جوہری ہتھیاروں یا وینزویلا پر حملے کے حق میں ہو، کیونکہ یہ ممالک امریکہ کے لیے خطرناک ہیں۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ پوپ لیو اور چرچ کے دیگر رہنما بائیں بازو کے نظریات کے حامی ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتے تو شاید وہ ویٹیکن میں بھی نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرائم کی شرح کم کی اور اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچائی، اور ان کا کہنا تھا کہ پوپ کو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے، سیاست سے بچنا چاہیے اور اپنے رویہ کو بہتر بنانا چاہیے۔  ٹرمپ کا یہ بیان ایک جاری تنقید اور عالمی سیاست میں مذہب اور سیاست کے تعلقات پر نئے سرے سے غور کرنے کا سبب بن گیا ہے۔