ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی پالیسی سے اختلاف، ایمان مزاری نے جبری گمشدگیوں کی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیٹی کی چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ بار کے صدر اور سیکریٹری کو ارسال کیا۔ایمان مزاری نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ بار نے 26ویں آئینی ترمیم اور ججز کی سینیارٹی سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست واپس لے لی، جس پر شدید مایوسی ہوئی۔ ان کے مطابق بار نے اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹ کر ایک قابلِ مذمت اور بزدلانہ عمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں جبری گمشدگیوں پر بیان جاری کرنے کے لیے کمیٹی کی لیٹرپیڈ تک فراہم نہیں کی گئی، جو کہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بار کی موجودہ قیادت اس اہم مسئلے پر مؤقف اپنانے کی جرأت نہیں رکھتی۔ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ان کا عہدہ لینے کا مقصد قانون کی حکمرانی اور جبری گمشدہ افراد کے لیے آواز اٹھانا تھا، لیکن بار کی کابینہ نے ان کا نام اور ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی، اس لیے وہ فوری طور پر استعفیٰ دے رہی ہیں اور اس کی منظوری کا مطالبہ کرتی ہیں۔