بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے خلاف جبری گمشدگیوں پر گرفتاری کا وارنٹ جاری

بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے خلاف جبری گمشدگیوں پر گرفتاری کا وارنٹ جاری

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے خود ساختہ جلاوطن سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی گرفتاری کے لیے ایک اور وارنٹ جاری کیا ہے۔

یہ وارنٹ اس الزام کے تحت جاری کیا گیا ہے کہ حسینہ واجد کے دور حکومت میں 500 سے زائد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جن میں سے کچھ کو برسوں تک خفیہ جیلوں میں رکھا گیا۔ ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام کے مطابق یہ وارنٹ شیخ حسینہ، ان کے فوجی مشیر، فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سمیت 11 دیگر افراد کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی بنگلہ دیشی ٹریبونل نے حکومت مخالف مظاہرین کو قتل اور تشدد کے الزامات پر شیخ حسینہ کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے۔شیخ حسینہ واجد اور عوامی لیگ پارٹی کے دیگر رہنماؤں پر 60 سے زیادہ مقدمات درج ہیں، جن میں قتل، تشدد اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔

ان شکایات پر ٹریبونل نے سماعت شروع کی تھی اور پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر یہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد 5 اگست کو اپنے حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں، اس سے پہلے ایک طلبا تحریک میں 700 سے زائد افراد ہلاک اور ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی جا رہی ہے۔ ان کی معزولی کے بعد، فوج نے عبوری کابینہ تشکیل دی جس کی سربراہی نوبیل انعام یافتہ بینکار محمد یونس کر رہے ہیں۔