چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری سے متعلق اپنے حالیہ ریمارکس پر وضاحت جاری کر دی۔
ایک کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ چیف جسٹس نے وضاحت دی کہ ایمان مزاری ان کے لیے بیٹیوں جیسی ہیں اور انہوں نے بطور چیف جسٹس اور ایک بڑے کی حیثیت سے انہیں صرف سمجھانے کی کوشش کی تھی۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان کے ریمارکس کو یوں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جیسے کوئی دھمکی دی گئی ہو، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف یہ باور کرانا تھا کہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ذاتی نوعیت کی بات نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر وکیل ہادی صاحب موجود تھے، انہیں کہا گیا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو "پکڑ کر لے جاؤ" ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی کرنا پڑے گی۔ لیکن یہ بات ایمان مزاری کے لیے نہیں تھی، بلکہ قانونی وضاحت تھی۔چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایمان مزاری جیسے نوجوان وکیل کے کیرئیر پر کوئی منفی اثر پڑے، اسی لیے وہ نرمی اور سمجھانے کے انداز میں بات کر رہے تھے۔