اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیریں مزاری کی درخواست: ایمان مزاری سے ملاقات نہ ہونے پر عدالت سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیریں مزاری کی درخواست: ایمان مزاری سے ملاقات نہ ہونے پر عدالت سے رجوع

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں کیونکہ انہیں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

 شیریں مزاری نے ملاقات کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا اور اپنی درخواست دائر کرنے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق بھی کروائی۔شیریں مزاری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ کل بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئی تھیں، لیکن ملاقات کا دن ہونے کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل قوانین کے مطابق ملاقات کا حق ان کا بنیادی حق ہے اور اسی بنیاد پر وہ عدالت میں پٹیشن لے کر آئیں ہیں۔درخواست میں انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک ماں کے طور پر بیٹی سے ملاقات اور داماد سے بھی ملنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں بلا وجہ روکا جا رہا ہے۔
شیریں مزاری نے واضح کیا کہ پاکستان نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور جیل قوانین کے مطابق ملاقات کا حق بنیادی انسانی حق میں شامل ہے۔شیریں مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ ملک کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ ہمیشہ مضبوط رہی ہے اور اگر بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہماری پوزیشن مضبوط رہی تو اب اسے کیوں کمزور یا تباہ کیا جا رہا ہے۔اس کیس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کا حق جیل قوانین کے مطابق فراہم کیا جائے۔