ہم ملکی سیاست کی غلط تعریف کرتے ہیں ، سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے،سیلاب سے جی ڈی پی کا 9 فیصد نقصان ہوا
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے موثر منصوبہ بندی ضروری ہے‘ اگلے 200 دن میں مربوط اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا:وفاقی وزیر
آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا،اگلے مون سون کی شدت 20 سے 26 فیصد زیادہ ہو گی:چیئرمین این ڈی ایم اے
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے ہم ملک کی سیاست کی غلط تعریف کرتے ہیں ، سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے، سیاست اور صحافت عوام کے مقدمے کیلئے کی جاتی ہیں،سیلاب سے جی ڈی پی کا 9 فیصد نقصان ہوا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے موثر منصوبہ بندی ضروری ہے،سیلاب میں جانی نقصانات سے بچا ئو ہماری سیاست کا محور ہونا چاہیے۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مصدق ملک نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ملکی جی ڈی پی کا 9 فیصد نقصان ہوا، پچھلے 3،4 سیلابوں کے دوران 4500 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، جتنے لوگ سیلاب سے جاں بحق ہوئے اتنے جنگوں میں بھی نہیں مارے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال سیلاب سے 31 لاکھ افراد بے گھر ہوئے،اور 18 ہزار سے زائد معذوری کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کو فکس کیا جائے گا، اگلے 200 دن میں مربوط اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔200 دن کے اندر سڑکوں کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ہمارا نکاسی کا نظام موجودہ موسمی شدت کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے موثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، طویل مدتی حکمت عملی کے تحت 5 سال میں موسمیاتی مطابقت کا حامل انفرا اسٹرکچر تیار کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ارلی وارننگ سسٹم کو فوری طور پر مربوط بنانے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر تحصیل اور ضلع کی سطح پر ارلی وارننگ سسٹم فعال بنایا جائے گا۔ اسلام آباد کو خبر بعد میں ہوگی، پہلے جہاں خطرہ ہے اس علاقے کو وارننگ ملے گی‘۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر نے کہا کہ ہر سال پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی شدت بڑھ رہی ہے، اگلے مون سون سیزن سے پہلے تیاری کرنے کی ضرورت ہے، 2026 میں رواں سال کے مقابلے میں مون سون سیزن زیادہ شدت سے آئے گا، 2026 میں مون سون کی شدت 20 سے 26 فیصد زیادہ ہو گی۔انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ پاکستان میں موسمیاتی شدت بڑھتی جا رہی ہے، موثر اقدامات سے موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے اپنے دریاوں پر ڈیمز اور بیراج بنائے جائیں گے، سیلاب کے دنوں میں سیاحوں کی آمدورفت کو محدود کیا جائے گا