سمندری راستوں میں کوئی بھی خلل اقتصادی استحکام کو مجموعی طور پر براہ راست متاثر کرتا ہے‘پاکستان بحریہ نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا ہے
پاکستان ایسے میری ٹائم آرڈر کا حامی ہے جس میں سب شامل ہوں اور تعاون کا نتیجہ خطے میں امن اور استحکام کی صورت میں نکلے
اسلام آباد(آئی این پی )پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے موجودہ خطرات کی شدت اور تنوع اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ تن تنہا ان کا مقابلہ کرسکے۔سری لنکن میڈیا کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حقیقی معنوں میں آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کا ایسی بلاک سیاست یا فوجی اتحادوں کی صورت میں ارتقا نہیں ہونا چاہیے جس میں بعض ممالک کو غیرمتعلقہ قراردیدیا جائے یا یہ علاقائی توازن درہم برہم کردے۔اس سوال پر کہ آزادانہ نیوی گیشن پاکستان کی اقتصادی سکیورٹی خصوصا توانائی کے راستوں اور تجارتی کوریڈورز کے حوالے سے کتنی اہم ہے؟ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاکستان سمندری تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، توانائی کی درآمد خصوصا پیٹرول اور لیکویفائیڈ نیچرل گیس ایل این جی بحیرہ عرب اور اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، سمندری راستوں میں کوئی بھی خلل اقتصادی استحکام کو مجموعی طور پر براہ راست متاثر کرتا ہے، اسی لیے پاکستان بحرہند کے علاقے میں محفوظ اور بلا روک ٹوک میری ٹائم ٹریفک کا حامی ہے۔حالیہ امریکااسرائیل ایران تنازعہ اور عالمی سپلائی چین میں خلل کے تناظر میں ، پاکستان بحریہ نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا ہے تاکہ سمندری راستے محفوظ ہوں اور قومی ضرورت کی توانائی درآمد کرنا یقینی بنایا جاسکے۔پاک بحریہ نے اس ضمن میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ساتھ قریبی رابطے رکھتے ہوئے ایسکورٹ آپریشنز کیے ہیں اور تجارتی جہازوں کی نقل وحمل محفوظ بنائی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ سمندری راستوں کو کھلا رکھنا یقینی بنانا نہ صرف عالمی اقدارکے تحت ہے بلکہ یہ انڈوپیسفیک مسابقتی ماحول میں برآمدی مارکیٹس کو تحفظ دینے، درآمد جاری رکھنے اور ابھرتے ہوئے تجارتی کوریڈورز کی ساکھ کیلئے بھی اہم ہے