پیپلز پارٹی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا مطالبہ کر دیا۔

پیپلز پارٹی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد: پیپلز پارٹی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

 پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں پی اے سی کے اراکین کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے خط میں کہا کہ اگر اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس نہیں بلاتے تو پیپلز پارٹی خود اجلاس بلانے پر مجبور ہو جائے گی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق پی اے سی کے گیارہ اراکین نے ریکوزیشن جمع کروا رکھی ہے اور اگر اسپیکر نے اجلاس نہ بلایا تو پیپلز پارٹی نے خود چیئرمین کے انتخاب کے لیے اجلاس بلانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اسپیکر ایاز صادق سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ جب تک مستقل چیئرمین منتخب نہیں ہوتا، کمیٹی اراکین خود اپنے چیئرمین کا انتخاب کر لیں۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پی اے سی کی سربراہی کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے پھر چیئرمین کے لیے ناموں کا پینل طلب کیا ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس معاملے پر اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات بھی کی ہے۔ پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ شیخ وقاص اکرم کو ہی پی اے سی کا چیئرمین بنایا جائے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن نے بھی پی اے سی کی سربراہی کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اشارہ دے دیا ہے۔ مارچ میں حکومت کے قیام کے بعد پی اے سی ابھی تک اپنے چیئرمین کا انتخاب نہیں کر سکی، جو پارلیمنٹ کی سب سے اہم کمیٹی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی عوام کے پیسے کے حساب کتاب کی ذمہ داری ادا کرتی ہے اور اس کی سربراہی اہم ہے۔