تحریک انصاف کے دور حکومت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز میں مالی بدعنوانیوں کے انکشافات کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری نے بڑی کارروائی کی ہے۔
کمیٹی نے اس دوران 300 ملین روپے کی ریکوری عمل میں لائی ہے، جس کی تفصیل محکمہ تعلیم نے کمیٹی کو فراہم کر دی ہے۔تاہم، آڈٹ کے دوران کئی اہم ریکارڈ بھی پیش نہیں کیے گئے، جن میں سابق حکومت کے دوران پرائیویٹ اسکولوں سے رجسٹریشن فیس کی وصولی سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، خریداری کے معاملات میں مالی بے ضابطگیاں، عملے کو غیر قانونی الاؤنسز کی ادائیگی، اور سیکیورٹی اکاؤنٹس کے نام پر غیر قانونی ادائیگیاں بھی سامنے آئیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان مالی بے ضابطگیوں سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے، اور یہ معاملات محکمہ تعلیم کی نگرانی میں ہونے والی بدانتظامیوں اور غیر شفاف طریقہ کار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمیٹی نے ان تمام امور کی تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔