پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سیکرٹری خزانہ کو فوری طلبی کا حکم

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سیکرٹری خزانہ کو فوری طلبی کا حکم

اسلام آباد:پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزارت خزانہ کے سیکرٹری کی غیر حاضری کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے انہیں آج یا کل ہر صورت اجلاس میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔

یہ ہدایت چیئرمین پی اے سی جنید اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی، جس میں اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارت خارجہ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزارت خزانہ کے سینئر افسران نے سیکرٹری کی غیر حاضری کی وجہ آئی ایم ایف ٹیم سے جاری مذاکرات کو قرار دیا۔ تاہم، چیئرمین کمیٹی نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کی موجودگی ضروری ہے اور انہیں ہر حال میں پیش ہونا ہوگا۔اجلاس میں ممبر کمیٹی عمر ایوب نے بھی وزارت اقتصادی امور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزارت دنیا کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات کی نمائندگی کرتی ہے، مگر اس کے بجٹ تخمینے غیر تسلی بخش ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 18 مارچ کو وزارت خزانہ کے ساتھ آڈٹ پیراز کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔ اس دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے بھی سوالات کیے گئے کہ ادارے بجٹ کی تیاری میں بار بار غلط اندازے کیوں لگاتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل نے جواب دیا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اداروں میں بجٹ سازی کا عمل درست انداز میں نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے مالی تخمینے درست نہیں ہوتے۔اجلاس میں دیگر اہم مالی امور پر بھی غور کیا گیا اور کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو بجٹ سازی کے عمل میں بہتری لانے کی ہدایت دی۔