انمول پنکی کے مبینہ گاہکوں سے متعلق نئے انکشافات سامنے آ گئے

انمول پنکی کے مبینہ گاہکوں سے متعلق نئے انکشافات سامنے آ گئے

کراچی میں کوکین کوئین کے نام سے معروف انمول عرف پنکی کیس میں منشیات کے مبینہ گاہکوں سے متعلق نئی اور تشویشناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنکی سے منسلک نیٹ ورک کے ذریعے مبینہ طور پر 16 سے 24 سال کی عمر کے طلبہ و طالبات بھی کوکین حاصل کرتے تھے، جن میں مختلف مہنگے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوان شامل ہیں۔ ان منشیات کو "گولڈ کوکین" کے نام سے مہنگی قیمت پر فروخت کیا جاتا تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی معلومات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طلبہ تک منشیات کی ترسیل رائیڈرز کے ذریعے کی جاتی تھی، جبکہ طالبات کو مبینہ طور پر ایک الگ خواتین نیٹ ورک کے ذریعے سپلائی فراہم کی جاتی تھی۔انکشافات کے مطابق انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاوہ اسلام آباد اور لاہور کے بعض تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی اس نیٹ ورک کا حصہ رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے موبائل فونز اور روابط کا ڈیٹا حاصل کر کے اس نیٹ ورک سے جڑے افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق منشیات کی خرید و فروخت، رابطوں اور ترسیل کے طریقہ کار کا مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے ادارے تعلیمی اداروں میں منشیات کے مبینہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔