کراچی کی سیشن عدالت جنوبی نے منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈیوٹی مجسٹریٹ کا جوڈیشل ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران گارڈن تھانے میں درج متعدد منشیات مقدمات کی سماعت ہوئی، جہاں تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی ریمانڈ کے فیصلے میں قانونی پیچیدگیاں اور تضادات سامنے آئے تھے۔پراسیکیوشن کے مطابق ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مختلف مقدمات میں ملزمہ کے حوالے سے متضاد احکامات جاری کیے، جس کے باعث کیس کی تفتیش متاثر ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ ملزمہ کا جوڈیشل ریمانڈ ختم کر کے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔دوسری جانب عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی نوعیت کے مقدمات میں مختلف نوعیت کے احکامات قانونی ابہام پیدا کرتے ہیں، تاہم کیس کے شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی درخواست کو عدالت نے میرٹ پر مسترد کر دیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ شواہد اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں مزید کسٹڈی کی ضرورت پر نظرثانی ممکن نہیں، جبکہ تفتیشی افسر کی بعض درخواستیں ناقابلِ قبول قرار دی گئیں۔پولیس کے مطابق ملزمہ کے خلاف مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور تفتیشی عمل جاری ہے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔