اسلام آباد(آئی ا ین پی ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں کے بازار تاخیر تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی مخالفت کر تے ہوئے کہاہے کہ میں ذاتی طورپر سمجھتاہوں کہ صوبائی حکومتوں نے جلدبازی کی ہے کہ جو مارکیٹس کو اجازت دیدی کہ بے شک رات بارہ ایک بجے تک کھلے رہیں، ہم ابھی تک کرائسز سے نکلے نہیں، ایک ایک بوند تیل ڈالر میں آتاہے ۔ایک انٹرویو میں احسن اقبال کاکہناتھاکہ سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم ذمہ داری کا مظاہرہ کرناچاہیے ، فرض ہے کہ لائف سٹائل کو بدلیں، طرز عمل میں سنجیدگی لے کرآئیں، میں بھی دنیا سے واقف ہوں،کہیں کاروباری مراکز چھ بجے کے بعد کھلے نظرآتے ہیں؟امریکہ ، جاپان، ملائشیا،چین یورپ جہاں مرضی چلے جائیں، چھ نہیں تو آٹھ بجے کاروبار بند ہوجاتاہے، صبح چھ سات بجے اپنی زندگی شروع کرتے ہیں، یہی بات دین بھی سکھاتا ہے عشا کے بعد معاملات لپیٹ دیں اور فجر کے بعدرزق کی تلاش میں نکلیں، اس میں اللہ برکت بھی دیتا ہے۔ان کا مزیدکہناتھاکہ ہمارے ہاں عجیب لائف سٹائل ہے، رات کو دو تین بجے تک جاگتے ہیں اور صبح ایک بجے سے پہلے کوئی کاروبار شروع نہیں ہوتا، جب میں جی سی میں پڑھتا تھا تو تبھی ہمارااگر پہلاپیریڈ مس ہوجاتا تو صبح ساڑھے آٹھ نو بجے انارکلی کی دکانیں کھل جایا کرتی تھیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ حکومت شاید دبائو میں آئی لیکن جب کرائسز میں ہوں تو قوم کو رہنما ئی کی ضرورت ہے