لاہور میں بسوں ‘ٹرکوں اور ٹرالر کا داخلہ روکا جائے،ورک فرام ہوم کی پالیسی شروع کی جائے،ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عملدرآمد ممکن نہ ہو، سموگ ایک سال میں کنٹرول نہیں ہو گی، 5سال تک اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوں گے
دھواں چھوڑنے والی بسوں کو 50، 50ہزار جرمانہ کریں تو کیسے ٹھیک نہیں ہونگے؟، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی سڑک پر کیسے جا سکتی ہے؟ ہم حکومت کی مدد کیلئے یہ اقدامات کر رہے ہیں، حکومت شاید احکامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی:جسٹس شاہد کریم
لاہور(کورٹ رپورٹر‘ایجنسیاں) عدالت نے سموگ تدارک کیلئے پنجاب بھر میں مارکیٹیں رات 8بجے بند کرنے، لاہور میں بسوں سمیت بڑی گاڑیوں کا داخلہ روکنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عملدرآمد ممکن نہ ہو،ورک فرام ہوم کی پالیسی شروع کی جائے، سموگ ایک سال میں کنٹرول نہیں ہو گی، 5سال تک اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوں گے۔لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک بارے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔عدالت نے لاری اور بسوں کا لاہور میں داخلہ روکنے کے احکامات جاری کئے جبکہ ٹرک اور ٹرالر کو بھی شہر میں داخلے سے روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹرک اور ٹرالر سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہیں، ڈولفن پولیس اور پولیس اہلکار ہیوی ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے تعینات کئے جائیں، ہر سماعت پر حکومت کو سموگ کنٹرول کیلئے اقدامات کا کہتے رہے، اصل آلودگی کا باعث ہیوی ٹریفک کا دھواں چھوڑنا ہے۔عدالت نے کہا کہ اگر لاری اور بسوں کو نوٹس دیئے ہیں تو ابھی تک بند کیوں نہیں ہوئیں؟ دھواں چھوڑنے والی بسوں کو 50، 50ہزار جرمانہ کریں تو کیسے ٹھیک نہیں ہونگے؟، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی سڑک پر کیسے جا سکتی ہے؟، محکمہ ٹرانسپورٹ کو اقدامات کرنا چاہئیں تھے۔عدالت نے کہا کہ ہم حکومت کی مدد کیلئے یہ اقدامات کر رہے ہیں، حکومت شائد عدالتی احکامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی، ڈی سی وغیرہ پر حکومت کا دبا ؤہو تو کام کریں گے، سموگ کی صورتحال کا انتظامیہ کو رات کو جائزہ لینا چاہئے، ڈی سی لاہور اور کمشنر کو رات کو نکل کر دیکھنا چاہئے کیا ہو رہا ہے؟۔عدالت نے کہا کہ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عملدرآمد ممکن نہ ہو، شادی پر ون ڈش تو کردی لیکن وہاں پر رش کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔دریں اثناء سموگ کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں 10 روز کیلئے پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر بند کردیئے گئے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب حکومت نے 4ڈویژنز لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان کے 18اضلاع میں تمام پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر 10دن کیلئے بند کر دیئے۔محکمہ تحفظ ماحولیات کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 8نومبر سے 17نومبر تک لاگو رہے گی، پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتاری اورجرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔