مذہبی جماعت کی اپیل پرہڑتال نہ ہوسکی‘تمام مارکیٹیں کھلی رہیں 5ہزار سے زائد گرفتاریاں

ملک بھر میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں، امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ رہے
پنجاب میں احتجاج اور ہڑتال کی کال کو ناکام بنانے کیلئے کریک ڈائون  کے سلسلے میں 42 ہزار پولیس اہلکار تعینات  کئے  گئے ‘کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوا
لاہور(کرائم رپورٹر‘ایجنسیاں)  تحریکِ لبیک پاکستان   کی جانب سے دی گئی ہڑتال اور احتجاج کی کال  باشعور شہریوں اور تاجر برادری نے مکمل طور پر مسترد کر دی۔ملک کے تمام بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ  سمیت  چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں  میں زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔  بازار، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے، سبزی منڈیاں اور دفاتر  کھلے رہے جبکہ  ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں  رہی۔موٹرویز، جی ٹی روڈز، رنگ روڈز اور دیگر مرکزی شاہراہیں  پوری طرح کھلی رہیں، اور کسی مقام پر ٹریفک یا معمولاتِ زندگی میں تعطل  کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے  مکمل طور پر الرٹ رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے   احتجاج   اور ہڑتال کی کال کے پیش نظر مجوزہ کریک ڈائو ن کی تیاریوں کے سلسلے میں 42 ہزار پولیس اہلکار تعینات  کئے  گئے جبکہ  صوبہ پنجاب میں مذہبی جماعت کیخلاف کریک ڈائو ن کے دوران گرفتار ملزمان کی تعداد 624 ہوگئی‘مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں