حال ہی میں کی گئی ایک طبی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ رات گئے جاگنے والے افراد ڈپریشن جیسے دماغی امراض کا شکار ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
برطانیہ میں ہونے والی اس تحقیق کے دوران محققین نے 546 یونیورسٹی کے طالبعلموں کا ڈیٹا اکٹھا کیا، جس میں ان سے نیند کی عادات، منفی خیالات، ڈپریشن اور انزائٹی کی سطح سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے ہیں، ان میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق، یہ ممکنہ طور پر نیند کی کمی، منفی خیالات اور ناقص غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے، جو کہ دیر تک جاگنے کے دوران اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس تحقیق نے رات گئے جاگنے اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی، حالانکہ یہ تحقیق اس بات کا قطعی سبب نہیں بتا سکی۔ تاہم، محققین نے بتایا کہ یہ نتائج واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ دیر تک جاگنے کے عادی افراد میں دماغی صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ان کی نیند کا معیار خراب ہو۔محققین نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دماغی امراض کا شکار ہو رہی ہے اور رات گئے جاگنے کی عادت اس کا ایک اہم سبب ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل PLOS One میں شائع کیے گئے ہیں۔اسی طرح کی ایک تحقیق جون 2024 میں امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں بھی کی گئی تھی، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ رات دیر تک جاگنے کے عادی افراد میں دماغی صحت کے مسائل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ 7 سے 8 گھنٹوں تک نیند لیتے ہوں۔اس تحقیق میں 74,000 درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا، جن میں سے کچھ افراد صبح جلد جاگنے کے عادی تھے، کچھ رات دیر تک جاگتے تھے، اور باقی دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود تھے۔ ان افراد کی نیند پر نظر رکھنے کے لیے ایکٹیویٹی مانیٹرز پہنائے گئے تھے۔ محققین نے بتایا کہ رات دیر تک جاگنے کی عادت دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کی ممکنہ وجہ تمباکو نوشی اور زیادہ کھانے کی عادات ہو سکتی ہیں، جو جسم اور دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہیں۔اس تحقیق کے نتائج نے یہ ثابت کیا کہ نیند کی عادات کا دماغی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے ڈپریشن اور دیگر دماغی امراض کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔