سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز دیکھنے اور اسکرولنگ کی عادت آج کے دور میں عام ہوتی جا رہی ہے، مگر اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کی نئی تحقیق کے مطابق، ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شارٹس جیسی ایپس کا زیادہ استعمال دماغی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جسے ’برین راٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقی نیوروکگنیٹو سینڈروم ہے جو دماغی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق:
مختصر ویڈیوز دیکھنے سے توجہ برقرار رکھنے اور دماغی کنٹرول کمزور ہوتے ہیں۔نوجوان روزانہ تقریباً 6.5 گھنٹے آن لائن مواد دیکھتے ہیں۔دماغ سست ہو جاتا ہے، اور پڑھنے، سیکھنے اور مسئلہ حل کرنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔مسلسل ویڈیوز کا استعمال عام سرگرمیوں سے بے حسی اور عدم دلچسپی کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت صرف توجہ یا سیکھنے پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ مجموعی دماغی صحت، رویے اور روزمرہ کی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اب وقت ہے کہ لوگ اپنے استعمال کا جائزہ لیں، ورنہ نتائج آنے والے برسوں میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔