لاہور: جماعت اسلامی نے غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے خلاف فلسطینیوں کے حق میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بڑے شہروں میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی طرف پرامن مارچ کیا جائے گا۔ لاہور میں مسجد شہداء سے امریکی قونصلیٹ تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور حکومت و اپوزیشن کو مؤثر موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی تازہ بمباری میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ علاقے کی ناکہ بندی کر کے اشیائے خورونوش کی ترسیل روکنے کے بعد بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں اور متعدد لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے اس بمباری کو اپنی مشاورت سے کیا گیا حملہ قرار دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ براہ راست اس دہشت گردی میں شریک ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب قیادت کی مجرمانہ خاموشی اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کے مسلمان، خاص طور پر پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں کیا عملی اقدام اٹھاتا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست دان امریکی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں مؤثر آواز بلند نہیں کر رہے۔ اگر پاکستان کوئی جارحانہ پالیسی اختیار کرے تو عالمی برادری اس کی بات سننے پر مجبور ہو جائے گی، لیکن ہمارے حکمرانوں نے ہمیں کمزور اور بے اثر بنا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف ہے بلکہ یہ پاکستان کے نظریہ کے بھی خلاف ہوگا۔
پاک افغان کشیدگی
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکا، دونوں ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ خطے میں بدامنی برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اپنے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں، جبکہ افغان حکومت کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
مہنگائی اور بلوچستان کی صورتحال
حافظ نعیم الرحمٰن نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں اور غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 14 اپریل کو بلوچستان کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس منعقد کرے گی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور بلوچ قیادت کو مدعو کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچستان کے مسائل کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔