جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا

جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا

لاہور: جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ کیے جانے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے تو اڑان پاکستان اور اسٹاک ایکسچینج کے بہتر ہونے کی خوشخبری دی ہے، مگر پیٹرول اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہوئیں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بدترین حالت میں ہے اور عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کا مسئلہ جماعت اسلامی نے اٹھایا ہے اور اس کے خلاف دھرنے اور احتجاج کیے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آئی پی پیز بند ہونے کے باوجود بجلی کے بل کیوں کم نہیں ہو رہے؟ حکومت صنعتکاروں کے لیے 2000 ارب روپے دے رہی ہے، مگر عوام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی پی پیز کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کر دیتی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، جو کہ ایک ظلم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کی بات کر رہی ہے جس سے بجلی کی پیداوار کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے گنے کی قیمتوں کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ حکومت کو گنے اور گندم کی قیمتیں مقرر کرنی چاہیے تاکہ کسانوں کو فائدہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو قرضے دیے جائیں تاکہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے نہ دب جائیں۔تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت تعلیم پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے، پرائیویٹ سیکٹر کو تعلیم کا بوجھ منتقل کر رہی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے 17 ہزار سکولوں کو سر سے اتارنے کی کوششوں کو افسوسناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی، جماعت اسلامی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ہمیشہ فوجی عدالتوں کے مخالف رہے ہیں۔

کراچی کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے حکومت میں ہیں اور کراچی کے معاملات خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کے مسائل میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔اسرائیلی جارحیت پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جارہی ہے اور امریکہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا میں قتل و غارت کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ افغانستان سے مذاکرات کر کے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک جنگ سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن قوم و فوج کے لیے نقصان دہ ہیں اور حکومت کو عوام کو روزگار فراہم کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔

مختصر طور پر، حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے عوامی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا اور 17 جنوری کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔