ساہیوال: 8 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا، شہریوں کی بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا

ساہیوال: 8 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا، شہریوں کی بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا

پنجاب میں شہری انفراسٹرکچر اور سیوریج نظام کی بہتری کے حکومتی دعوؤں کے باوجود کھلے مین ہولز کا خطرہ ایک بار پھر سنگین حادثے کا سبب بننے کے قریب پہنچ گیا، تاہم بروقت شہری مداخلت سے ایک 8 سالہ بچہ محفوظ رہا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟
پرانا نور شاہ روڈ پر نادرا آفس کے قریب ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک 8 سالہ بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ پیدل جا رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک بچہ سڑک پر موجود ایک کھلے سیوریج مین ہول پر پاؤں رکھ بیٹھا، جس کا ڈھکن غائب تھا، اور وہ تقریباً 20 فٹ گہرے گڑھے میں جا گرا۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی۔

شہریوں کی فوری کارروائی
مقامی افراد نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کارروائی شروع کی اور چند ہی منٹوں میں بچے کو زندہ حالت میں باہر نکال لیا۔ خوش قسمتی سے بچہ شدید زخمی ہونے سے محفوظ رہا، تاہم اسے معمولی چوٹیں آئیں۔

شہریوں نے اسے ایک "بڑا سانحہ ٹل جانے" سے تعبیر کیا۔

ریسکیو ٹیم کی کارروائی
اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ٹیم نے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کھلے مین ہول کے اردگرد بیریئرز لگا کر اسے بند کیا اور مزید کسی حادثے سے بچاؤ کے اقدامات کیے۔

عوامی غصہ اور انتظامی غفلت پر سوالات
مقامی رہائشیوں نے واقعے پر شدید تشویش اور غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سیوریج لائنوں اور مین ہولز کی حالت انتہائی خراب ہے اور متعدد مقامات پر ڈھکن غائب ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا کہ واسا اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث اس نوعیت کے خطرناک واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں، جو کسی بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور شہر بھر میں کھلے مین ہولز کی ہنگامی بنیادوں پر نشاندہی اور مرمت کا عمل شروع کیا جائے۔