مہنگی بجلی ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج، توانائی ماہر کی پالیسیوں پر تنقید

مہنگی بجلی ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج، توانائی ماہر کی پالیسیوں پر تنقید

ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معیشت اور عوام دونوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔

توانائی امور کے ماہر اور سابق پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے منیجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ نے موجودہ توانائی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگی بجلی ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر بشارت چیمہ نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اہم اسباب میں بجلی کے بلند نرخ سرفہرست ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، جس کا اثر صنعتوں، کاروباری سرگرمیوں اور عام صارفین پر یکساں طور پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے مہنگے نرخوں کی وجہ سے صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ گھریلو صارفین کے ماہانہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے بقول توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات معیشت کی مجموعی کارکردگی کو سست کر رہے ہیں۔طاہر بشارت چیمہ نے بجلی کی بلند قیمتوں کی ایک بڑی وجہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں کے تحت صلاحیتی ادائیگیوں (Capacity Payments) اور دیگر مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے بجلی کی فی یونٹ لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔

توانائی ماہر نے حکومت کو تجویز دی کہ بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز، اضافی سرچارجز اور مختلف ٹیکسز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق غیر ضروری مالی بوجھ کم کرنے سے نہ صرف صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ بجلی کے استعمال اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے توانائی شعبے کو درپیش مسائل، جن میں گردشی قرضہ، ترسیلی نقصانات، بجلی چوری اور مہنگے پیداواری معاہدے شامل ہیں، بجلی کی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان مسائل کے پائیدار حل کے بغیر صارفین کو مستقل ریلیف فراہم کرنا مشکل ہوگا۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں بہتری آ سکتی ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔