سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنی وفات سے قبل مودی سرکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔
انہوں نے مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں، ہندو انتہا پسندی، اور نفرت انگیز تقاریر کے استعمال پر شدید اعتراضات کیے۔ من موہن سنگھ کا کہنا تھا کہ مودی بھارت کی تاریخ میں وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے عوامی نظریے کے وقار کو ٹھیس پہنچائی اور بھارت کے عوام سے جھوٹے وعدے کیے۔انہوں نے بی جے پی اور مودی سرکار پر الزام عائد کیا کہ وہ فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی اگنی ویر اسکیم بھارت کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے کسانوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں بھارتی پنجاب اور پنجابیوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور کسانوں کے حقوق مانگنے پر 750 سے زائد کسانوں کو قتل کیا گیا۔
پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے من موہن سنگھ نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ خود کو تباہی کی طرف نہ دھکیلیں اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان کے خلاف نئی سیاست نہ کریں۔من موہن سنگھ نے اپنی تحریروں اور بیانات میں بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی اور مودی سرکار کی بدعنوانی اور عوامی فلاحی کاموں سے غفلت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کی تنقیدیں ان کے سیاسی کیریئر کا ایک اہم حصہ بن گئیں اور مودی حکومت کی پالیسیاں اور بھارت کی داخلی سیاست پر ان کی نظر بہت اثرانداز ہوئی۔