وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی، احسن اقبال، نے لاہور میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور ملکی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2020 میں جن اکنامک زونز کی تیاری کا منصوبہ تھا، 2022 تک ان میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو عالمی سطح پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ پاکستان چند ہفتوں میں سری لنکا جیسی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت، ملک نے معاشی بحالی کی جانب پیش رفت کی ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گئی ہے، پالیسی ریٹ 12 فیصد پر آ گیا ہے، اور اسٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ ملک ایک بار پھر ترقی کی اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، امن، استحکام، پالیسیوں کا تسلسل، اور اصلاحات پر عمل درآمد کا عزم بہت ضروری ہے۔ ہمیں اگلے اہداف پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ماضی کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔