جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران4اسرائیلی فوجی ہلاک ‘ اسرائیل لبنان کی زمین چھوڑے گا نہ فوج نکالے گا:نیتن یاہو
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیادی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے،امریکہ حملے رکوانے میں مکمل ناکام رہا ہے :ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
بیروت‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) اسرائیل کے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری سے کم از کم 16 افراد شہید ہو گئے جبکہ متعدد زخمی اور لاپتا ہیں، 4 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئیلبنان کی سرکاری خبر ایجنسی نے بتایا کہ رات بھر جاری رہنے والی یہ بمباری علاقے پر ہونے والے شدید ترین اسرائیلی حملوں میں سے ایک تھی، جس میں آدھی رات کے بعد متعدد گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے نبطیہ شہر، کفر جوز، کفر رمان اور زبدین سمیت کئی قریبی قصبوں پر گولہ باری کی، اس کے بعد فضائی حملوں کی لہر نے کفر تبنیت اور ریحان کی پہاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری طرف اسرائیل کے وزیراعظم نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان کی زمین چھوڑے گا نہ فوج نکالے گا۔دریں اثناء ایران نے خبردار کیا کہا ہے اگر اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تباہ کن جواب دینے میں زرا بھی نہیں ہچکچائیں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔انھوں نے مزید کہا کہ میں رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کا پابند ہوں اور مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور اس صورتحال کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد کی ہے۔ لبنان میں جاری حملے خطے کے استحکام کو مزید غیر یقینی بنا رہے ہیں اور یہ اقدامات بین الاقوامی امن کوششوں کے منافی ہیں