ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی کی صحت سے متعلق وضاحت سامنے آ گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، 13 جون کو اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہونے والے علی شمخانی کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ تہران کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔اس سے قبل کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی شمخانی شہید ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور روبہ صحت ہیں۔
پس منظر:
13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر میزائل حملے کیے گئے تھے، جن میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہی حملوں کے دوران علی شمخانی کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد ان کے بارے میں متضاد افواہیں گردش کرتی رہیں۔
خامنہ ای کا سخت پیغام:
دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن کو سزا دی جا رہی ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مزاحمتی پالیسی میں کوئی نرمی نہیں آئے گی۔
تجزیہ:
علی شمخانی ایران کے قومی سلامتی کے کلیدی ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور خطے میں ایران کی اسٹریٹجک پالیسی سازی میں ان کا کردار اہم رہا ہے۔ ان کی ہلاکت کی افواہوں کا پھیلنا خطے میں سیاسی و دفاعی ہلچل کا باعث بنا، تاہم اب ان کی صحت سے متعلق وضاحت نے کسی حد تک غیریقینی صورتحال کو کم کر دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق، ان کی مکمل صحت یابی کے لیے طبی عملہ سرگرم ہے اور جلد ان کی حالت مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔