ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مشیر اور ایران کے سینئر ترین عہدیدار علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی ویڈیو لیک ہونے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
اپریل میں ہونے والی اس تقریب میں علی شمخانی کی بیٹی اور اہلیہ کو مغربی لباس اور بغیر حجاب کے دیکھا گیا، جس نے ایران میں شدید تنقید اور احتجاج کو جنم دیا۔ویڈیو کے پھیلتے ہی علی شمخانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں ابھی زندہ ہوں‘، اور یہ جملہ انہوں نے ایک فوجی کمانڈر کے جنازے کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی انہوں نے عبرانی زبان میں یہی پیغام شیئر کیا، جس کا اردو ترجمہ ہے کہ ’میں ابھی زندہ ہوں‘۔ یہ الفاظ پہلے بھی انہوں نے اسرائیلی حملے کے بعد استعمال کیے تھے۔اس واقعہ نے ایران میں سیاسی اور سماجی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، اور حکومتی حلقوں کے بیانات کے مطابق، اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔