ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ملک کے اہم سیاسی، اقتصادی اور فوجی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات صدر پزشکیان کے عہدہ سنبھالنے کے تیسرے سال کے آغاز پر ہوئی، اور اس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ صورتحال، اقتصادی چیلنجز، امریکی اور اسرائیلی جارحیت، فوجی پیش رفت، وسائل کی دستیابی، اور اقتصادی روابط کے امور پر گفتگو کی۔ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے طریقوں، ایرانی ریال، غیر ملکی زرِمبادلہ، توانائی کے اخراجات اور غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے امکانات پر بھی بات چیت کی، جب کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی جنگی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور حال ہی میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ ان سے رابطہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ ایران کا حالیہ موقف ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ابتدائی معاہدہ ناکام ہونے کے بعد اب بات چیت محدود پیغامات کے تبادلے تک محدود ہو چکی ہے۔
اس دوران، پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی عوام کے ساتھ ملاقاتوں اور ان کی تصاویر مستقبل میں شائع کی جائیں گی، مگر اس کا کوئی ٹائم لائن طے نہیں ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع کیا تھا، جس میں اسلامی انقلاب کے سابق رہبر سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔مسعود پزشکیان 5 جولائی 2024 کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کر کے 6 جولائی 2024 کو ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے، اور 28 جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں باضابطہ طور پر صدر کے طور پر حلف دلایا۔ ان کا انتخاب سابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے چند ماہ بعد عمل میں آیا تھا۔