آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے پھنسے جہاز کے مالک محمد حسین شمخانی کون ہیں؟

آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے پھنسے جہاز کے مالک محمد حسین شمخانی کون ہیں؟

آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے ایک مقام پر موجود تیل بردار جہاز ایک بار پھر عالمی میڈیا اور نگرانی کے اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

 بحری نگرانی کے اداروں کے مطابق یہ جہاز ایرانی میڈیا کی بعض حالیہ رپورٹس کے برعکس تازہ دنوں میں نہیں بلکہ مارچ سے اسی علاقے میں موجود ہے۔الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس جہاز کی شناخت “اریستا” کے نام سے کی گئی ہے، جو بظاہر کوموروس کے پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق ایران کے تیل کے کاروبار سے منسلک ایک بااثر نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک محمد حسین شمخانی سے منسوب کیا جاتا ہے، جو ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت میں اہم کردار ادا کرنے والے علی شمخانی کے بیٹے بتائے جاتے ہیں۔ امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ پہلے ہی ان پر مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔الزامات کے مطابق مذکورہ نیٹ ورک فرنٹ کمپنیوں، جعلی شپنگ دستاویزات اور سمندر میں جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی (Ship-to-Ship Transfer) جیسے طریقوں کے ذریعے ایرانی اور روسی تیل کی اصل شناخت چھپا کر اسے عالمی منڈیوں میں فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مالی لین دین بھی مختلف غیر واضح کمپنیوں کے ذریعے انجام دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے ایران اور روس کو اربوں ڈالرز کی آمدن حاصل ہوتی ہے، جبکہ یورپی یونین کے مطابق روسی تیل کو مختلف پیٹرولیم مصنوعات میں ملا کر دوبارہ برآمد کیا جاتا ہے۔الجزیرہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محمد حسین شمخانی نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ انہیں پہلی بار گزشتہ برس امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ بعد ازاں برطانیہ نے بھی ان کے اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندی اور کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی عائد کی تھی۔بحری ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس نوعیت کے جہازوں کی طویل موجودگی عالمی توانائی تجارت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مسلسل نگرانی کا موضوع بنی ہوئی ہے۔