ٹرمپ نے پیوٹن کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دے دی

ٹرمپ نے پیوٹن کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ میں امن قائم کرنے، حکمرانی کو بہتر بنانے اور وہاں کی تعمیر نو کے لیے قائم کیے جانے والے “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ تقریباً چار سال مکمل کر چکی ہے اور اس دوران خطے میں کوئی پائیدار امن معاہدہ نہیں ہو سکا۔ رمپ کی پیشکش کے تحت اس بورڈ میں عالمی شخصیات کو شامل کر کے غزہ میں امن کے لیے اقدامات کرنے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ پیوٹن کو دعوت موصول ہو گئی ہے اور روس واشنگٹن سے “تمام تر نکات کی وضاحت” چاہتا ہے۔ تاہم، پیوٹن کی جانب سے اس پیشکش میں دلچسپی کا واضح عندیہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بورڈ میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دنیا بھر کی شخصیات سے رابطے کیے ہیں، جبکہ بورڈ کی صدارت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ عالمی سطح پر اپنے امن اقدامات اور ڈپلومیسی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جاری انسانی بحران اور سیاسی تنازعات کے دوران۔