امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ابراہام اکارڈز (معاہداتِ ابراہیم) میں شامل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
جمعرات کو اپنے بیان میں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور کئی مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے 2020 میں شروع ہونے والے یہ معاہدے خطے میں امن کے قیام کی اہم کلید ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان معاہدوں کو وسعت دینے کی کوششیں جاری رہنی چاہیے، کیونکہ اس سے خطے میں امن اور استحکام آئے گا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ، "اب جبکہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ختم کر دیا گیا ہے، میرے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک ابراہیم معاہدے کا حصہ بنیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ، جس پر ان کی پہلی صدارت کے دوران دستخط ہوئے تھے، چار مسلم ممالک نے امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے اور نارملائزیشن کے لیے اتفاق کیا تھا۔تاہم، غزہ میں حالیہ دنوں میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں، غذائی قلت اور انسانی بحران کی وجہ سے ان معاہدوں کی وسعت پر مشکلات کا سامنا ہے۔ غزہ میں 60,000 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جس سے عالمی غصہ بھڑکا ہے۔ کینیڈا، فرانس اور برطانیہ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے ظاہر کیے ہیں۔
معلومات رکھنے والے ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس وقت آذربائیجان اور وسطی ایشیا کے کچھ اتحادی ممالک کے ساتھ ان معاہدوں میں شامل ہونے کے امکانات پر فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے، اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے ممالک ابراہیم معاہدہ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو خطے میں امن یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ 2020 میں یو اے ای اور بحرین نے ابراہیم معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اور بعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کیے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا تھا، جس سے خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہوئی تھی۔