بسنت سے پہلے ہی نوجوان زخمی‘گلے پر ڈور پھر گئی‘شہریوں نے پتنگیں بنانا شروع کردیں

شادباغ کی حدود میں واقع ٹوکے والا چوک میں رات کو24سالہ بلال اسلم کے گلے پر ڈور پھر گئی ‘ڈی آئی جی آپریشنز نے نوٹس لے لیا
لاہور میں پابندی کے باوجود پتنگ اڑانے پر 196 افراد گرفتار‘ غیر قانونی طور پر پتنگ بنانے والی 5 فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا
لاہور(کرائم رپورٹر)شادباغ میں پتنگ کی ڈور گلے میں پھرنے سے ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ تھانہ شادباغ کی حدود میں واقع ٹوکے والا چوک میں پیش آیا، جہاں 24 سالہ بلال اسلم پتنگ کی ڈور گلے میں پھرنے کے باعث زخمی ہو گیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ڈور لگنے سے نوجوان کے گلے کی شہ رگ پر گہرا زخم آیا جسے ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد  فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او شادباغ کے خلاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 24 گھنٹوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے‘دریں اثناء لاہور کے مختلف مقامات پر خاص طور پر دریائے راوی کے پار لوگوں نے ڈوریں لگانا شروع کردی ہیں جبکہ لاہور پولیس نے شہر بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی اور پتنگ سازی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرتے ہوئے چھٹی کے روز پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 205 ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پابندی کے باوجود پتنگ اڑانے والے 196 افراد کو موقع پر گرفتار کیا گیا، جبکہ کسی کو بھی رعایت نہیں دی گئی۔ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر پتنگ بنانے والی 5 فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا، جہاں سے پتنگ سازی میں استعمال ہونے والا خام مال بھی برآمد کیا گیا۔ اسی طرح پتنگیں فروخت کرنے والے 4 ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔فیصل کامران کے مطابق گرفتار 205 ملزمان کے قبضے سے سینکڑوں پتنگیں، چرخی اور پنی ڈور برآمد کی گئی۔