شہزاد راجپوت
یہ تاریخ کا عجیب مگر بار بار دہرایا جانے والا منظر ہے کہ جب طاقت اپنے جبر پر نازاں ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے آوازوں پر پہرے بٹھاتی ہے۔ راستے بند کیے جاتے ہیں۔دروازوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔شناخت کی پڑتال سخت کی جاتی ہے اور خوف کی فضا کو دانستہ گہرا کیا جاتا ہے مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دیواروں سے نہیں ٹکراتیں، آسمانوں کی طرف اٹھتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قدغنیں لگتی ہیں مگر تکبیریں بلند رہتی ہیں۔رمضان المبارک کی ساعتوں میں جب اہلِ ایمان صفیں باندھ کر قیام کرتے ہیں تو یہ محض ایک عبادت نہیں رہتی، یہ اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے حقِ عبادت کا اعلان بھی بن جاتی ہے۔طاقت کے ایوان سمجھتے ہیں کہ سختی سے حاضری کم ہو جائے گی، خوف سے قدم رک جائیں گے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایمان کا رشتہ زمین سے کم اور آسمان سے زیادہ ہوتا ہے۔ جس دل میں عقیدہ راسخ ہو، وہاں پابندیاں محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں۔یہ منظر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ جبر وقتی ہو سکتا ہے مگر حوصلہ دائمی ہوتا ہے۔ بندوق کی نال چند لمحوں کے لیے راستہ روک سکتی ہے مگر نیت کے سفر کو نہیں۔ پہرے دار دروازے بند کر سکتے ہیں مگر سجدے کی سمت نہیں بدل سکتے۔ عبادت کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ انسان کو خوف سے آزاد کرتی ہے اور اسے یہ یقین عطا کرتی ہے کہ اصل اختیار اسی کے پاس ہے جو دلوں کے حال جانتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ قدغنیں کیوں لگیں،سوال یہ ہے کہ ان قدغنوں کے باوجود صفیں کیسے قائم رہیں؟ اس کا جواب کسی سیاسی حکمتِ عملی میں نہیں بلکہ اس روحانی وابستگی میں پوشیدہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ جب بزرگوں کی پیشانیوں کے نشان بچوں کے حافظے کا حصہ بن جائیں تو پھر پابندیاں محض رکاوٹیں نہیں رہتیں، امتحان بن جاتی ہیں اور اہلِ ایمان امتحان سے گھبراتے نہیں، سرخرو ہوتے ہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عبادت گاہیں صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں ہوتیں،وہ تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شعور کی علامت ہوتی ہیں۔ ان پر لگنے والی ہر قدغن دراصل ایک قوم کے احساسِ وجود کو چیلنج کرتی ہے۔ اور جب وجود کو للکارا جائے تو ردِعمل محض جذباتی نہیں ہوتا، وہ عزم میں ڈھل جاتا ہے۔آج کا منظر ہمیں بتاتا ہے کہ طاقت کی زبان دھمکی ہو سکتی ہے مگر ایمان کی زبان یقین ہے۔ دھمکی وقتی اثر رکھتی ہے، یقین مستقل قوت دیتا ہے۔ قدغنیں لگانے والے شاید یہ سمجھتے ہوں کہ انہوں نے ماحول کو خاموش کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموشی کے اندر بھی تکبیر کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی عمر طویل دکھائی دے سکتی ہے مگر ابدی نہیں ہوتی۔ جو چیز ابدی ہے وہ حق پر استقامت ہے۔ جب صفیں قائم رہتی ہیں اور تکبیریں بلند ہوتی ہیں تو یہ اعلان ہوتا ہے کہ ایمان کو قید نہیں کیا جا سکتا۔قدغنیں وقتی تھیں، ہیں اور رہیں گی مگر تکبیریں بھی بلند تھیں، ہیں اور رہیں گی۔