جب دعائیں قبول ہونے لگیں

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
مزیدبرآں،انڈیاکے سیاسی تجزیہ کاروں نے بار باراسی حلقہ فکرکودہراتے ہوئے کہاہے کہ بنگلہ دیش میں اب ایک انڈیامخالف لہرہے،خاص طورپرنئی نسل کی سیاسی ذہنیت جس نے نہ صرف تاثربدلاہے بلکہ سوشل میڈیاکی تیزلہروں میں ایک خودمختارشناخت تلاش کرناشروع کردی ہے۔یہ حقیقت سیاسی علمِ سیاست کی اس کتاب جیسی ہے،جہاں ہرنئے باب نے دوستی، دشمنی،مفاد،اورخودمختاری کونئے معنوں میں پرکھاہے۔
ہرآنے والے دن انڈیاکی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اورتاریخی بیانیہ بھی ہے کہ دوست کے بغیرسرحدلمبی لگنے لگتی ہے۔شیخ حسینہ کے بعددہلی کوڈھاکامیں اپناکوئی واضح دوست دکھائی نہیں دیتا۔روابط کے پرانے دروازے بند ہوتے محسوس ہوتے ہیں،انڈین پالیسی کا اصل مخمصہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں نئی قیادت کون؟،اس کے ساتھ اعتمادکیسے؟اورماضی کی مداخلت کابوجھ کیسے اتاراجائے؟یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اوراخلاقیات دونوں کے سوال کھڑے ہیں۔
بنگلہ دیش کی نئی نسل نے ایک طویل تاریخی پس منظرکے بغیراپنے سیاسی احساسات کوپروان چڑھایا۔ان کے سامنے1971کی آزادی کی تاریخ ایک خالی سطرسی ہے،نہ پرانی،نہ پڑھی،نہ وہ اس کے گہرے معنی تک رسائی چاہتے ہیں۔اس نئی نسل کاسیاسی ردعمل اگر کچھ ہے،تووہ انڈین حکمتِ عملی کی شفافیت پرسوالات اوردشمنی کی کشش ہے،جیساکہ مقامی مبصرین بتاتے ہیں کہ یہ نسل سیاست کو صرف قائداورقائدانہ تقریرکی حدسے آگے لے کرایک سوشل مؤثرتحریک کی شکل دے رہی ہے،جہاں تصورات اورتاثرایک دوسرے میں گھلتے ہیں اورنئے خیالات جنم لیتے ہیں اورانہیں انڈین کے اس پروپیگنڈہ کی کوئی پرواہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام میں انڈیانے ان کی مددکی تھی یاانہیں اپناغلام بنانے کی سازش کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ12فروری انتخابات کی آمد کادن کیوں فیصلہ کن ہے؟دراصل12فروری کے عام انتخابات صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں، قومی فکرکی سمت کے تعین کادن ہے۔اس دن ان سوالات کافیصلہ ہوگاکہ کون قیادت کرے گا؟کس کے ہاتھ میں خارجہ پالیسی ہوگی؟ جنوبی ایشیامیں نئی صف بندی کیاہوگی؟طاقت کے ترازومیں ووٹ بھی رکھاجائے گا اور شعوربھی۔اس دن خطے کے اندرونی معاملات میں انڈیاکی مداخلت،آئندہ مفاہمت یادشمنی کے امکانات اورجمودکافیصلہ ہوگا۔ہم سب محمدیونس کی عبوری حکومت سے انڈیاکی ناگواری کی وجوہات سے واقف ہیں کہ بنگلہ دیش سے حسینہ کاانڈیا کی طرف ذلت آمیزفرار،اورحسینہ کوپناہ دینااوربنگلہ دیش کی طرف سے حسینہ کی واپسی کا مطالبہ اب بنگلہ دیش کی عوام کااولین مطالبہ ہے۔
ادھر دوسری طرف انڈیاعبوری حکومت سے شاکی،مذہبی جماعتوں سے خوفزدہ،بی این پی اورطلبہ گروہوں سے محتاط ہے۔انڈین تجزیہ کاروں نے تویہاں تک کہاکہ جماعتِ اسلامی انڈین اسٹیبلشمنٹ کیلئے ڈراناخواب ہے۔یہ اصطلاح خوداس بات کااقرارہے کہ انڈیامذہبی شناخت سے خوف کھاتاہے اورخطے میں سیکولرازم کے نام پرصرف اپنے مفادکی سیاست کرتاہے۔
آج جب دومسلم ریاستیںبنگلہ دیش اورپاکستاننئی سیاسی حقیقتیں طے کررہی ہیں،وہاں انڈیاکے پاس چندہی آپشنزرہ گئے ہیں۔ایک آزادانہ،شفاف انتخابات کواپنی بدنام زمانہ انٹیلی جنس’’را‘‘کے توسط سے سبوتاژکیاجاسکے،جس میں جماعت اسلامی اوربی این پی کے مضبوط کردارجن کے باہمی تعلقات انتخابات میں یقینی فتحِ کاسبب بن سکتے ہیں اور دونوں ممالک پاک بنگلہ دیش امن کی راہ پرگامزن ہو سکتے ہیں۔علاوہ ازیں انڈیاکی پوری کوشش ہوگی کہ علیحدہ راستوں پرجاکرکشیدگی کوبڑھاوادے،جس کاخمیازہ دونوں ممالک کومستقبل میں بھگتناپڑسکتاہو۔اگرہندوتواکے تعصب کی انا،ضدنظری سے دیکھاجائے توایسامعلوم ہوتاہے کہ شایدانڈیانے بین الاقوامی سیاست کے سنگِ لاپراپنے آپشنزکو محدود کر لیاہے،اوراب ہرفیصلہ اس کے سیاسی مفاد،اخلاقی استدلال،اورعلاقائی امن کے بیچ کی باریک لکیروں پرمنحصرہے جومسلسل خطے کے امن کیلئے خطرہ کے طورپردیکھاجارہاہے۔
شیخ حسینہ عدالت سے سزایافتہ،ملک سے باہرعوامی لیگ پرانتخابی پابندی عائد،انڈیاسے ان کی قربت نے انہیں دہلی کی پالیسی کا مرکزی ستون بنارکھاتھا۔اب وہ ستون گرچکا ہے۔ اس کے بعدانڈیاکی پالیسی گویایتیم سی دکھائی دیتی ہے،دوست ڈھونڈتی ہے مگردوست دستیاب نہیں۔اس لئے شیخ حسینہ کاباب ابھی تک مکمل طورپربندنہیں ہوا۔ادھردوسری طرف ان انتخابات میں نئی نسل اورانڈین مخالف فضانے جاری تاریخ کامزاج بھی بدل کررکھ دیاہے۔پاکستان،بنگلہ دیش اورانڈیاایک مفادات کی مثلث کے طورپران انتخابات پراثر اندازہوں گے۔ بنگلہ دیش کی نئی نسل،1971کی تاریخ سے جذباتی طورپرجڑی نہیں۔سماجی میڈیاکے اسیراورانڈین رویوں سے نالاں یہ نوجوان نسل ہی توبنگلہ دیش کے اس انقلاب کاسبب بنی ہے۔ 
جب انڈیاکی طرف سے باربارکہاجائے تمہاراوجودہماری دین ہے تونفسِ انسانی بغاوت کرتاہے۔یہی بغاوت آج سڑکوں پر،دانش گاہوں میں، اورسیاسی مباحث میں آوازبن چکی ہے کہ ہندومتعصب بنیاکبھی بھی اپنے مفادکے بغیرکسی کی مددنہیں کرسکتااوراس متعصب ہندوبنئے کو ہم نے بڑی بھاری قیمت یہ چکائی ہے کہ اس نے نہ صرف ہماری معیشت پرغلبہ پالیاہے بلکہ ہمیں غلام بناکررکھ دیاہے۔علاوہ ازیں انڈیانے طلبہ تنظیموں کواہمیت نہیں دی،نوجوان قیادت سے رابطہ نہیں رکھا،جبکہ بنگلہ دیش میں طلبہ ونگ ہی سیاسی لیبارٹری ہے، مستقبل کی قیادت وہیں سے نکلتی ہے۔اعتمادنہ دیاگیاتوبداعتمادی عروج تک پہنچ گئی اورانڈیاکی سب سے بڑی یہی غلطی رہی کہ اس نے طلبہ سیاست کوحسینہ واجدکے مقابلے میں بری طرح نظراندازکیااوربالآخراس کے ذلت آمیزنتیجہ کاشکاربھی ہوا۔
نئی نسل کے بدلتے مزاج نے انڈین لہرکے خلاف انتخابات کے ذریعے اقوام عالم کواضح پیغام دینے کافیصلہ کررکھاہے۔بنگلہ دیش کی نئی نسل1971کے جذبات سے آزاد،خود آگاہ،سوشل میڈیاکے وسیع کینوس پرپلی ہوئی۔جب ان سے کہاجاتاہے،تم ہمارے مرہونِ منت ہوتو وہ جواب دیتی ہے،ہم آزادہیںکسی کے مرہونِ منت نہیں۔یہی وہ لہرہے جس نے انڈیا کیلئے مشکلات بڑھائیں اوربنگلہ دیش کی سیاست کارخ بدلا۔انڈیانے یہ سمجھنے میں دیرکی کہ بنگلہ دیش میں طلبہ ونگ ہی اصل سیاسی لیبارٹری ہے،نوجوان ہی کل کی قیادت ہوتی ہے۔ جب طلبہ کونظر اندازکیاگیاتوبے اعتمادی کے بیج بودیے گئے۔وہی بیج آج تناوردرخت بن چکے ہیں۔کیاعجب منظرہے کہ جونہی وقت نے رخ بدلا،دہلی کواب بی این پی قابلِ قبول لگ رہی ہے،خالدہ ضیاکے ساتھ خیرسگالی پیغام اسی حکمت کا حصہ تھا مگر تاریخ کی جبر دیکھیے، خالدہ ضیا رخصت ہو چکیں، اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔ انڈیا اب تعلقات کی نئی بنیاد تلاش کر رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے اور فضا پہلے جیسی سازگار نہیں رہی۔
حسینہ واجد انڈیا میں پناہ گزیں، سزائے موت کی سزا یافتہ، جماعتوں کے دبا میں ان کے بیانات، قوم کے زخموں کو تازہ بھی کر سکتے ہیں اور مستقبل کے تعلقات کو مشکل بھی، انڈیا کیلئے سبق یہی ہے، بیانات کا بازار بھی سفارت کا میدان ہے، یہاں نادان لفظ بھی حادثہ بن جاتا ہے۔شیخ حسینہ کے جاری بیان بازی کی تلوار اور خطرناک دھار بھی انڈین مخالفت میں اضافہ کر رہی ہے۔
پچاس برس بعد پاک بنگلہ دیش کے تجارتی روابط، عسکری تعاون، تہذیبی و مذہبی رشتوں کا احیا دوبارہ منظر پر آ رہا ہے ۔یہ قربت اگر تدبر سے آگے بڑھی تو خطے کا توازن بدل سکتا ہے
۔ انڈیا کی اجارہ داری چیلنج ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ قربت روز بروز بڑھ رہی ہے۔بڑی تعداد میں وہ عناصر بھی ابھر رہے ہیں جو پاک بنگلہ مضبوط عسکری، معاشی تعلقات کے حامی ہیں۔ یہ عمل قدرتی ہے کیونکہ زبانوں کا رشتہ، تہذیب کا رشتہ، عقیدہ و تاریخ کا رشتہ،ان رشتوں کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔ حالات نے بی این پی کو سیاسی مرکز، سفارتی محور، انتخابی قوت بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ انڈیا اب اس کے ساتھ مفاہمت کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے، لہجے بدل چکے ، فضا تبدیل ہو چکی ہے۔خالدہ ضیا کی رحلت نے سیاست میں جذباتی باب بھی شامل کر دیا ہے اور اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔
انتخابات سے پہلے پرتشدد واقعات، انڈیا مخالف مظاہرے، ایک دوسرے پر مداخلت کے الزامات، ایسے ماحول میں انڈیا خود ایک انتخابی نعرہ بن چکاہے اورشایددہلی کی پالیسیوں نے یہ نعرہ خودجنم دیاہے اورانڈین پالیسی کایہ خمیازہ بھی انڈیاکامہنگاپڑرہاہے۔(جاری ہے)