سردار حیدر احمد علی
کہتے ہیں زمانہ کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو قومیں وقت کی رفتار کے ساتھ چلتی ہیں، وہ تاریخ بناتی ہیں، اور جو ماضی کی زنجیروں میں بندھی رہتی ہیں، وہ تاریخ کی کتابوں میں صرف مثال بن کر رہ جاتی ہیں۔ پاکستان آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف روایتی پٹرول اور ڈیزل کی دنیا ہے، اور دوسری طرف خاموشی سے آگے بڑھتی الیکٹرک گاڑیوں کی نئی دنیا۔ایک زمانہ تھا جب گھوڑا طاقت کی علامت تھا، پھر موٹر کار آئی تو لوگ اسے امیروں کا کھلونا کہتے تھے۔ آج وہی موٹر کار عام آدمی کی ضرورت بن چکی ہے۔ شاید کل الیکٹرک گاڑی کے بارے میں بھی یہی کہا جائے کہ یہ صرف چند لوگوں کا شوق نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت تھی۔چین نے دنیا کو صرف سستی مصنوعات ہی نہیں دیں بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ مستقبل بیٹری، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا ہے۔ یورپ نے ماحول بچانے کی بات کی، امریکہ نے جدت کی، اور چین نے ان دونوں کو صنعت میں بدل دیا۔ اب پاکستان کی سڑکوں پر بھی نئے نام دکھائی دے رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ گاڑیاں کتنی خوبصورت ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کے لیے ذہنی، معاشی اور انتظامی طور پر تیار ہیں؟
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا زخم درآمدی تیل ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر صرف اس لیے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں کہ ہمارے پہیے پٹرول سے چلتے ہیں۔ اگر یہی انحصار کم ہو جائے تو زرمبادلہ پر دباؤ بھی کم ہوگا، فضائی آلودگی بھی گھٹے گی اور توانائی کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔ لیکن ہر خواب کی تعبیر صرف خواہش سے نہیں ملتی، اس کے لیے منصوبہ بندی، مستقل مزاجی اور سیاسی تسلسل بھی چاہیے۔یہاں مسئلہ صرف گاڑی خریدنے کا نہیں، اسے چلانے کا بھی ہے۔ اگر ایک شہری لاہور سے اسلام آباد جانا چاہے تو کیا راستے میں اتنے چارجنگ اسٹیشن ہوں گے کہ وہ بے فکر سفر کر سکے؟ اگر گرمیوں میں بجلی کی طلب پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہو تو لاکھوں الیکٹرک گاڑیاں کس نظام سے چارج ہوں گی؟ اگر ان سوالوں کے جواب صرف وعدوں میں رہ گئے تو یہ انقلاب بھی کاغذوں میں قید ہو جائے گا۔دوسری طرف ایک اور پاکستان بھی ہے۔ وہ پاکستان جس کی چھتوں پر سولر پینل لگ رہے ہیں، جہاں نوجوان نئی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے تیار ہیں، جہاں ایک نئی متوسط طبقاتی سوچ جنم لے رہی ہے۔ یہی وہ پاکستان ہے جو امید دلاتا ہے کہ اگر پالیسی درست ہو، سرمایہ کاری آئے اور حکومت تسلسل سے کام کرے تو ہم صرف گاڑیاں استعمال نہیں کریں گے بلکہ شاید ایک دن انہیں بنانا اور دنیا کو بیچنا بھی سیکھ جائیں گے۔
اصل سوال گاڑی کا نہیں، سوچ کا ہے۔ ہم اکثر نئی چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کبھی موبائل فون پر اعتراض تھا، کبھی انٹرنیٹ پر، کبھی آن لائن کاروبار پر۔ آج وہی چیزیں ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ ممکن ہے دس برس بعد پٹرول پمپ کم اور فاسٹ چارجنگ اسٹیشن زیادہ دکھائی دیں۔پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، انجینئر ہیں، ہنر ہے اور خواب دیکھنے والے لوگ بھی ہیں۔ کمی اگر ہے تو صرف اس یقین کی کہ ہم بھی بدلتی دنیا کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ قومیں صرف سڑکیں بنا کر ترقی نہیں کرتیں، وہ مستقبل پر یقین کر کے ترقی کرتی ہیں۔الیکٹرک گاڑی محض ایک نئی سواری نہیں، یہ ایک نئے عہد کی علامت ہے۔ یہ ماحول کی حفاظت کی بات بھی کرتی ہے، معیشت کی بہتری کی امید بھی دیتی ہے اور ٹیکنالوجی کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے اس تبدیلی کو صرف چند شو رومز تک محدود رکھا اور اسے قومی پالیسی نہ بنایا تو وقت آگے نکل جائے گا اور ہم ہمیشہ کی طرح دوسروں کی کامیابیوں پر تبصرے کرتے رہ جائیں گے۔وقت دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا پاکستان اس دستک کو سننے کے لیے تیار ہے، یا پھر ایک بار پھر ہم مستقبل کو اپنے سامنے سے گزرتا ہوا دیکھتے رہ جائیں گے