جب راستے بولنے لگیں

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ایران میں جنگ کے باعث ادویات اوردیگرضروری اشیاکی قلت پیداہوچکی ہے،اورپاکستان کے ذریعے انہی اشیاکی ترسیل ممکن ہو گی جوعالمی پابندیوں کی زدمیں نہیں آتیں۔یہ پہلواس فیصلے کوایک انسانی جہت بھی عطاکرتاہے کہ تجارت یہاں محض منافع کاکھیل نہیں بلکہ انسانی ضرورت کی تکمیل کاوسیلہ بھی ہے۔اسے بھی سفارتی اورانسانی ہمدردی کی زبان میں یوں کہاجاسکتاہے کہ خاموشی اگر حکمت سے لبریزہوتووہ خودایک تقریربن جاتی ہے،جسے سمجھنے کیلئے الفاظ کی نہیں،بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔امریکاکی جانب سے تاحال کوئی ردعمل نہ آنااس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ اقدام عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔اب تک امریکا کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا،جو اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ اقدام نہ صرف عالمی سطح پرقابلِ قبول دائرے میں ہے بلکہ عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔
اقتصادی ماہرین اس اقدام کوپاکستان کے اس دیرینہ خواب کی تعبیرکی طرف ایک اہم قدم قراردیتے ہیں جس کے تحت وہ علاقائی تجارت کامرکزبنناچاہتاہے۔اقتصادی ماہرین اسے ایک سٹریٹیجک پیش رفت قراردیتے ہیں۔یہ ایک ایساخواب ہے جس کی تعبیرپورے خطے کی تقدیربدل سکتی ہے اوریہ خواب محض اقتصادی نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتوں میں پیوست ہے۔پاکستان ایک ایسے مقام پرواقع ہے جہاں جنوب ایشیا،مشرقِ وسطی اوروسطی ایشیاکی سرحدیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی ہیں۔اگراس محلِ وقوع کومؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیاجائے تویہ خطہ عالمی تجارت کے نقشے پرایک نمایاں مقام حاصل کرسکتاہے۔گویایہ سرزمین اگراپنی حیثیت کوپہچان لے توقافلے اس کے درپر خود دستک دیں گے،اورراستے اس کے نام سے پہچانے جائیں گے۔
پاکستان ایران ٹرانزٹ راہداری کے عملی آغازکے ساتھ ہی پہلی تجارتی کھیپ ایران کے راستے تاشقند،ازبکستان روانہ کی گئی۔یہ واقعہ اس امرکاثبوت ہے کہ یہ منصوبہ محض کاغذی نہیں بلکہ عملی حقیقت میں ڈھل چکاہے۔کراچی سے گبداوررامیدان بارڈرکے راستے ایران میں داخل ہونے والایہ سامان دراصل اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں تجارت کے نئے درکھل رہے ہیں۔یہ ایک علامتی سفر بھی ہے جویہ پیغام دیتاہے کہ اگرارادہ پختہ ہوتو فاصلے رکاوٹ نہیں بنتے۔ اسے فکری انداز میں میں یوں کہاجاسکتاہے کہ عمل وہ معیار ہے جو دعوؤں کوحقیقت میں بدلتاہے،اورقومیں اسی سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہ اپنے ارادوں کوکس حدتک عملی جامہ پہناتی ہیں۔
2018میں پاکستان اورایران کے درمیان یہ اتفاق ہواتھاکہ ایران کے راستے ترکی تک اورپاکستان کے راستے چین تک تجارتی راہداری کھولی جائے گی۔یہ معاہدہ دراصل ایک وسیع تراقتصادی نیٹ ورک کی بنیادہے،جس میں پوراخطہ ایک دوسرے سے جڑسکتاہے۔اگر ایران پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی تجارت میں حصہ لیتاہے توپاکستان بھی ایران کے راستے وسطی ایشیااوریورپ تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ باہمی انحصاردراصل علاقائی استحکام کاضامن بن سکتاہے۔اسے سفارتی اسلوب میں یوں کہاجاسکتاہے کہ راستے جب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تووہ صرف فاصلے کم نہیں کرتے بلکہ دلوں کوبھی قریب لے آتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں وسطی ایشیا تک زمینی رسائی کیلئے افغانستان پرانحصار کرتارہاہے،مگروہاں کی غیر یقینی صورتحال اورسیاسی کشیدگی نے اس راستے کوغیرمستحکم بنادیاہے۔گزشتہ سال سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث گزرگاہیں بندہیں،جس سے تجارت شدیدمتاثرہوئی جس نے پاکستان کومتبادل راستوں کی تلاش پرمجبورکیاکہ ایران کے ذریعے یہ خلاپرہوسکتاہے اورتجارت کوتسلسل مل سکتاہے۔ایسے میں ایران کے ذریعے متبادل راستہ تلاش کرناایک ناگزیرحکمت عملی تھی۔یہ اقدام پاکستان کو ایک سے زیادہ محفوظ اورقابلِ اعتمادتجارتی راستہ فراہم کرسکتاہے،ایساراستہ جوسیاسی اتارچڑھاؤسے نسبتاًمحفوظ ہو۔گویاجب ایک دربندہو جائے تودانشمند وہی ہے جودیوارمیں دروازہ تلاش کرے،نہ کہ بند درکے سامنے بیٹھ کرماتم کرے۔
آبنائے ہرمزکی بندش کے دوران کئی جہازپاکستان کی بندرگاہوں پرلنگراندازہوئے،جس سے کراچی کی بندرگاہوں پرکارگوہینڈلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔عالمی تجارتی جہازوں کی آمدنے یہ واضح کردیاکہ یہ بندرگاہیں خطے کی معیشت میں کلیدی کرداراداکرسکتی ہیں۔یوں بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک معاشی مرکزبننے کی راہ پرگامزن ہے۔اب ایران کیلئے تجارتی راہداری کھلنے کے بعدیہ سرگرمیاں مزیدتیزہونے کی توقع ہے۔گوادراورکراچی کی بندرگاہیں محض ساحلی مقامات نہیں رہیں بلکہ وہ معاشی سرگرمیوں کے مراکزبننے جارہی ہیں۔یہ بندرگاہیں اب محض ساحلی مقامات نہیں بلکہ اقتصادی زندگی کی دھڑکن بن رہی ہیں۔یہ وہ دھڑکنیں ہیں جن سے معیشت کاجسم زندہ رہتاہے۔گویاسیاسی دانش کایہ بروقت فیصلہ درست ثابت ہواکہ معیشت کی قوت اس کے بہا ؤمیں ہوتی ہے،اورجہاں بہاؤرک جائے، وہاں زوال جنم لیتاہے ،یہ اقدام اسی بہاؤکوبرقراررکھنے کی ایک کوشش ہے۔اب اس فیصلے کے بعد ان میں مزید تیزی آئے گی۔
یہ ساری داستان محض راہداریوں،بندرگاہوں اورمعاہدوں کی نہیں بلکہ ایک قوم کے شعورکی کہانی ہے،ایک ایسی قوم جواپنے محلِ وقوع کواپنی تقدیرمیں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔ پاکستان نے ایران کیلئے تجارتی راہداری کھول کرنہ صرف ایک ہمسائے کی مدد کی ہے بلکہ اپنے لیے بھی امکانات کے درواکیے ہیں۔یہ اقدام سیاست،معیشت اوراخلاق تینوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔یہ فیصلہ محض ایک اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیے کواپنی تقدیربنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔اگرنیت میں اخلاص اورحکمت میں توازن قائم رہا،ااوریہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تووہ دن دورنہیں جب پاکستان واقعی علاقائی تجارت کامرکزبن جائے گااورتب تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک قوم تھی جس نے اپنے جغرافیے کوپہچانا،اسے سنوارا،اورپھراسے اپنی تقدیربنالیااوریہی وہ لمحہ تھاجب جغرافیہ اللہ کی بیش بہانعمت ثابت ہوااورزمین نے تاریخ کوجنم دیا۔
یہ فیصلہ محض راہداری کھولنے کانہیں بلکہ امکانات کے درواکرنے کاہے۔اس میں سیاست کی بصیرت،معیشت کی ضرورت اورتہذیب کی شائستگی تینوں یکجاہیں۔اگرتاریخ کوغور سے دیکھاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ اقوام وہی زندہ رہتی ہیں جواپنے جغرافیے کوتقدیرمیں بدلناجانتی ہیں۔پاکستان نے اس اقدام کے ذریعے یہی پیغام دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک راستہ ہے،ایک ایساراستہ جو مشرق ومغرب کوملاتاہے،اورجس پرچل کرخطہ ایشیاایک نئی صبح کی طرف بڑھ سکتاہے۔