جب دعائیں قبول ہونے لگیں

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
جنوبی ایشیاکی تاریخ کسی جامدسنگِ مرمرپرلکھی ہوئی عبارت نہیں،یہ دھڑکتے دلوں،نم آنکھوں اورلہوسے رچی مٹی میں بکھری ہوئی یادوں کانام ہے۔بالخصوص جنوبی ایشیااوربالعموم پاک وہنداوربنگلہ دیش کی تاریخ صرف سرحدوں،معاہدوں اوراقتدارکی کشمکش کانام نہیں،یہ دلوں کے رشتوں،لہجوں کے رنگ اورآنکھوں کے آنسوں کی داستان بھی ہے۔جنوبی ایشیاکی سیاست ایک بارپھرتیزرفتار تبدیلیوں کے دوراہے پرکھڑی ہے۔خطے کے اہم ملک بنگلہ دیش میں ابھرتے ہوئے سیاسی منظرنامے نے نہ صرف ملکی اقتدارکی حرکیات کومتاثر کیاہے بلکہ علاقائی توازن،سفارتی ترجیحات اورمستقبل کے معاشی وتزویراتی روابط پربھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ان حالات میں پاکستان اوربنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات نئی حرارت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں،جہاں دونوں ممالک کے عوام کی دیرینہ خواہشات اورباہمی قربت ایک نئے باب کی صورت اختیارکرتی دکھائی دیتی ہیں۔ماضی کی تلخیوں اورتاریخی واقعات کے باوجودعوامی سطح پردونوں ملکوں کے درمیان دوستی اوراخوت کے جذبات کم نہیں ہوئے۔جدائی کے دنوں میں دونوں طرف کے عوام نے شدیدجذباتی صدمات برداشت کیے اورآج بھی ایک دوسرے کیلئے خیرخواہ ہیں۔
برصغیرکی دومسلم ریاستیں،پاکستان اوربنگلہ دیشیہ صرف دوملک نہیں،ایک ہی روح کے دوبدن،ایک ہی شجرکی دوشاخیں،جن کی جڑیں مشترک ایمان،تہذیب،زبانوں کی ہم آہنگی اورباہمی محبت کی مٹی میں پیوست ہیں۔یہ ایک ہی آہنگ کے دونغمے،ایک ہی دعاکے دوہاتھ ہیں۔ تقسیم نے سرحدیں کھینچ دیں،مگرمحبت کے راستوں پرکوئی دیوارنہ اٹھ سکی۔ 1971 کی جدائی نے ریاستی نقشہ توتقسیم کر دیالیکن دلوں کی دھڑکنیں کبھی جدانہ ہوسکیں۔اس جدائی کے لمحوں میں صرف زمینیں نہیں بٹیں،خواب بھی بکھرے،دونوں طرف کے گھروں میں چراغ مدھم پڑگئے؛مائیں روئیں،بیٹیاں سہم گئیں،اوربھائیوں کے دلوں میں ایساخلاپیداہواجسے لفظ نہیں بھرسکتے اوردونوں طرف کے گھروں میں ایسی خاموشیاں اتر آئیں جنہیں تاریخ نے بھی احترام سے لکھاہے اورآج ایک مرتبہ پھریہی عوامی جذبات اب ریاستی پالیسیوں اورسفارتی رویوں میں بھی جھلکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس جدائی کے باوصف دعاؤں کاسفرکبھی رکانہیں۔بنگال کی لہراتی دھان کی بالیوں سے لے کرپنجاب کے کھیتوں تک ایک ہی پکارتھی :اے رب!دوبارہ دلوں کو قریب کردے۔عام لوگوں کے دلوں میں نہ کبھی نفرت بسی،نہ دشمنی نے گھرکیا۔بنگلہ دیش کے گاں ہوں یاپاکستان کے شہروں کی گلیاںجدائی کے دنوں میں بے شمارآنکھیں نم تھیں، دعائیں کانپتی ہوئی ہتھیلیوں میں سمٹی ہوئی تھیں،اورایک ہی التجاتھی کہ اللہ مقدرکے اس رستے کودوبارہ قربت میں بدل دے۔عوام کے دلوں میں آج بھی یہی تڑپ زندہ ہے کہ ہم دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آئیں،ایک دوسرے کے دکھ دردکے شریک بنیں اورایک دوسرے کیلئے سہارااورقوت بنیں۔
آج منظربدل رہاہے۔سیاست کے صحرا میں نئی ہواچل رہی ہے،ماضی کے بوجھ ہلکے پڑرہے ہیں،غلط فہمیوں کی دیواریں دراڑیں ڈال رہی ہیں اورمحبت کے پرانے چراغ دوبارہ جل اٹھنے کوہیں۔آج جب خطے کی سیاست نئے موڑلے رہی ہے،پرانے بیانیے پگھل رہے ہیں اوررشتوں کے بکھرے ہوئے موتی دوبارہ ہاتھوں میں آنے لگے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے جیسے وقت کاگردش کرتاپہیہ ایک نئی کروٹ لے چکاہے۔محبت کے دیے پھرسے روشن ہونے کوہیں،اوردونوں قومیں پھروہی پرانی دعامانگ رہی ہیںہم ایک دوسرے کے ساتھ رہیں،خواہ نقشے الگ سہی،لیکن دل ایک رہیں۔
پاکستان اوربنگلہ دیش کے عوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کیلئے خیرمانگی،خیرچاہی،اورایک دوسرے کیلئے دل کے دروازے کھلے رکھے۔اب وہ دیرینہ دعائیں قبولیت کے قریب محسوس ہونے لگی ہیں۔دونوں ملکوں کے نوجوان ایک نئی دنیاکے متلاشی ہیںجہاں ماضی نفرت کاعنوان نہیں بلکہ سبق ہو،اورمستقبل تعاون،بھائی چارے اورمشترکہ ترقی کی شاہراہ بنے۔یہ مضمون اسی بدلتے موسم  اورموجِ احساس کی داستان ہے  تاریخ کے زخموں پرمرہم رکھنے کی کوشش،سیاست کے شورمیں دوستی کی مگرمضبوط صدا،اوراس یقین کااظہارکہ االلہ کی بارگاہ میں مانگی گئی محبت کی دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں۔ایک ایسی تاریخ کابیان جس میں سیاست بھی ہے مگراس سے زیادہ محبت ہے؛تجزیہ بھی ہے مگراس سے بڑھ کرامید ہے؛اورایسی تمناہے کہ دونوں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں،جیسے کبھی ایک جان اورایک قالب تھیں اورآج پھراسی وحدت کیلئے دل دھڑکتے ہیں۔
جنوبی ایشیاکی سیاست کبھی بھی جمودکاشکارنہیں رہی۔یہ دریاہے جہاں موجیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔بنگلہ دیش آج ایک ایسے موڑپر کھڑاہے جہاں اقتدارکے ایوان متزلزل ہیں، عوامی اضطراب بیدارہے،علاقائی قوتوں کاساراحساب کتاب دوبارہ لکھاجارہاہے،طارق رحمن کی واپسی نے اس بساط پرنئی چال،نیاکھیل،نیاسوال رکھ دیاہے۔آخرڈھاکاکے آسمان تلے وہ لمحہ حشرآن پہنچا،جس کاقلم ونظرنے برسوں سے انتظارکیاتھا،17برس کی جلاوطنی کے بعدجب طارق رحمن نے ڈھاکاکی دھرتی پرقدم رکھاتوگویاتاریخ نے اپنی کتاب کانیاباب کھول دیا۔یہ واپسی محض ایک شخص کی مراجعت نہ تھی بلکہ سیاسی اسٹیٹس کوکے خلاف اعلانِ سوال تھی،بنگلہ دیشی سیاست میں مرکزِثقل کی تبدیلی کااشارہ تھی،اورخطے کی سفارت کاری کیلئے نئے حساب وکتاب کانقط آغاز۔
بی این پی کے ایگزیکٹوچیئرمین طارق رحمن نے17سالہ خودساختہ دورِجلاوطنی کی قیدچھوڑکر25دسمبرکووطنِ عزیزمیں قدم رکھا۔اس مٹی کی خوشبومیں گنوادی گئی شب غربت، ہزاروں کارکنوں کی پرتپاک آوازوں میں بدل گئی،جیسے کسی سوگوارشام نے صبحِ نویدکوجنم دیاہو۔ان کی آمدسے یہ تاثرابھراکہ ہجرت کاصحراختم ہوا،اب آزمائش کاشہرسامنے ہے۔ اسی واپسی نے دہلی کے ایوانِ اقتدار میں تشویش کی لہردوڑا دی کیونکہ شیخ حسینہ کے بعدبنگلہ دیش میں انڈیاکے روایتی تکیوں کاچہرہ نہ صرف بدل چکاہے بلکہ بری طرح نفرت کی آگ میں بھسم ہوچکاہے۔
وہاں، دارالحکومت کے دل نیاپلٹن کے دفاترکی چھتوں سے،ان کی آوازیوں گونجی کہ اگرخدانے چاہاتوہم سب مل کراپنی امیدوں کابنگلہ دیش تعمیرکریں گے۔یہ نہ صرف ایک سیاسی نعرہ تھابلکہ ایک نویدِعمل بھی ہے،چاہے اس کاتعلق ابھی تک جلاوطنوں کی یادوں سے ہو یاعوامی تشنگی سے۔یوں طارق رحمن کی وطن واپسی جہاں ایک نئے سیاسی عہدکاطلوعِ امید ہے وہاں تاریخ کے دروازے پرایک ایسی دستک بھی ہے جوانڈیاکی بے چینی اورجنوبی ایشیاکی سیاست میں نیاموڑبھی ثابت ہوسکتی ہے۔ 
سترہ برس کی خودساختہ جلاوطنی،سیاسی مقدمات،بیماری،ملک سے دوری،اوروطن کی یادوں کے بیابان،یہ سب طے کرنے کے بعد جب طارق رحمن نے ڈھاکا میں قدم رکھاتو عوامی ہجوم نے اس واپسی کوعہدِ نوکااستعارہ بنادیا۔پارٹی کارکنان کے نعروں میں امیدکی دھڑکن سنائی دی،مخالفین کے دلوں میں تشویش کی لہریں دوڑگئیں کیونکہ یہ واپسی محض ایک شخص کی مراجعت نہیں،یہ تاریخ کی واپسی ہے۔17سال بعدواپسی جلاوطنی کے صحراسے مادرِوطن کی گودتک کایہ سفرجہاں ان کااعلانِ عزم ہے وہاں امتحان کاپیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتاہے۔
ڈھاکاکے جلس عام میں طارق رحمن نے جوکہاوہ الفاظ نہیں بلکہ ایک عہدنامہ تھا،مستقبل کاایک فکری بیانیہ تھاجن کاوزن ان کے الفاظ سے ظاہرہورہاتھا۔صدربی این پی کی اس صریح امیدنے12فروری2026کوہونے والے عام انتخابات کوایک تاریخی سنگِ میل میں بدل دیاہے،جہاں ہرفکری لہجہ،ہرسیاسی مقف، اورہررہنماکاقدم جمہوریت واستحکام کی راہوں کی طرف دیکھاجارہاہے۔ طارق رحمن نے کہاکہ میرے پاس عوام اور ملک کیلئے ایک منصوبہ ہے،ملک کی ترقی کیلئے اورعوام کی تقدیربدلنے کیلئے،اس منصوبے کی تفصیل تاحال عوام کے سامنے نہیں آئی؛گویاایک رازہے،جس کے پردے کوابھی وقت ہی کھول سکتاہے۔اس ابہام کے کئی معنی ہیں،سیاسی حکمتِ عملی مخالف قوتوں کوغیر واضح رکھنا،انتخابی مہم کیلئے محفوظ کارڈمگریقینایہ سوال موجودہے،کیایہ منصوبہ اقتصادی احیاکاہے؟ کیایہ خارجہ پالیسی کی ازسرِ نوترتیب ہے؟یا طاقت کے ڈھانچوں میں توازن؟12فروری انتخابات کے تناظرمیں یہ خاموشی دراصل سیاسی حکمت بھی ہے اورپالیسی کا پردہ بھی۔
یہ عبارت،جیسے کسی معنوی سفرکی پہلی منزل ہو،جس نے اپنے اندرامیدوفکرکی دوصدائیں سموئی ہیں۔یہ لہجہ شخصی مرکزیت سے نکل کراجتماعی قیادت کی طرف اشارہ کرتاہے اوریہی جمہوری فکرکامغزہے۔بنگلہ دیش ایک سیاسی سازشی موسم کی گردش میں ہے جس سے نکلنے کیلئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔
مسئلہ کارخ صرف داخلی سیاست تک محدودنہیں رہا۔انڈیااور حسینہ کے بغیربنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی کشمکش ابھری ہے۔ انڈیاایک تاریخی گراوٹ سے گزررہاہے،کیونکہ حسینہ کے13برس کے اقتدارکے بعد،نئے منظر ناموں میں مناسب دوست نظرنہیں آرہا۔(جاری ہے)