سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
پاکستان اورایران کے درمیان909کلومیٹرطویل سرحدمحض ایک حد بندی نہیں بلکہ تہذیبوں کاسنگم اورربط کی علامت ہے۔تافتان،گبد اورمندجیسے راستے صدیوں سے قافلوں کی گزرگاہ اورتاجروں کے قدموں کی چاپ سنتے آئے ہیں۔یہ وہ راستے ہیں جن پرکبھی اونٹوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں،آج یہی راستے جدیدتجارت کی شاہراہیں بننے جارہے ہیں،آج انہی شاہراہوں پرٹرکوں کے قافلے چلیں گے۔فرق صرف رفتارکاہے،مقصدکانہیں کہ تجارت ہمیشہ قوموں کوجوڑتی ہے،توڑتی نہیں۔گویاتاریخ خودکونئے قالب میں ڈھال رہی ہے ۔یہ سرحد نہیں،دوتہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ ہے جوکبھی رکانہیں،صرف بدلتارہاہے۔
اگرجغرافیہ تقدیرکاپہلاباب ہے تورسائی اس کی تکمیل کاآخری مصرع۔ایران کیلئے کھولی گئی یہ تجارتی راہداری دراصل پاکستان کیلئے وسطی ایشیاکے دروازوں پردستک ہے۔یہ وہ خطہ ہے جوقدرتی وسائل سے مالامال،مگرسمندری راستوں سے محروم رہاہے اور یہی محرومی اسے راہداریوں کامحتاج بناتی ہے۔یہ راہداری مستقبل میں پاکستان کیلئے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کادروازہ کھول سکتی ہے۔پاکستان کایہ اقدام گویاایک تیرسے دوشکارکے مترادف ہے۔یہ اقدام صرف ایک فوری ضرورت کاجواب نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کاحصہ ہے،ایسی حکمت عملی جوپاکستان کوعلاقائی تجارت کے مرکزمیں لاسکتی ہے۔
بظاہریہ سہولت ایران کیلئے ہے،مگردرحقیقت یہ راستہ تاشقند،سمرقنداوربخاراکے دروازوں تک جاپہنچتاہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی ریشم،مصالحہ جات اورعلم کے قافلے گزرتے تھے۔آج اگروہی راستے جدید شاہراہوں میں ڈھل جائیں توتاریخ ایک بارپھراپنے آپ کو دہراسکتی ہے مگراس باردائرہ وسیع تررفتارہوگا۔قومیں جب اپنے جغرافیے کو پہچان لیتی ہیں توفاصلے سمٹ جاتے ہیں اورسرحدیں راستوں میں بدل جاتی ہیں۔گویایہ قدم صرف ایک ملک کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے امکانات کی نئی صبح لیکرآیاہے۔
یہ اقدام کسی اچانک واردہونے والے خیال کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل کی کڑی ہے۔2008میں پاکستان اورایران کے درمیان سڑک کے ذریعے تجارت کامعاہدہ طے پایا،جبکہ2006میں ٹرانزٹ آرڈرجاری کیاگیا،یہ دونوں معاہدے گویااس فیصلے کی بنیاد ہیں اورپاکستان اپنی تجارتی پالیسیوں کاتسلسل برقراررکھناچاہتاہے ۔اب2026 میں انہی بنیادوں پرایک نئی عمارت تعمیرکی جارہی ہے۔یہ وہ تسلسل ہے جوقوموں کوسنجیدگی عطاکرتاہے،ریاستوں کواستحکام بخشتاہے اورعالمی برادری میں ان کی ساکھ کومضبوط کرتا
ہے کیونکہ پالیسیوں کاتسلسل ہی ریاستی وقارکاضامن اورریاستوں کواستحکام بخشتاہے۔
یادرہے کہ یہ فیصلے یکایک نہیں اگتے،یہ تاریخ کی زمین میں برسوں پہلے بوئے گئے بیج ہوتے ہیں،جووقت آنے پرثمردیتے ہیں۔یہاں یہ امربھی قابلِ غورہے کہ پاکستان نے محض معاہدے کیے نہیں بلکہ انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق زندہ رکھااوریہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔پاکستان نے ثابت کیاہے کہ تاریخ کے اوراق صرف محفوظ رکھنے کیلئے نہیں بلکہ وقت آنے پرانہیں عمل کی روشنائی سے دوبارہ لکھنے کیلئے ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد وہ سکہ ہے جوہربازارمیں چلتاہے،مگراسے کماناآسان نہیں ہوتا۔پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کیلئے بینکنگ شرائط میں نرمی کرکے اوراب ٹرانزٹ سہولت فراہم کرکے ایک ایساماحول پیداکیاہے جس میں باہمی اعتمادپروان چڑھ سکتاہے۔تجارت دراصل تعلقات کی وہ زبان ہے جسے ہرقوم سمجھتی ہے۔یہ اقدام محض اقتصادی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے کیونکہ قومیں صرف مفادات سے نہیں،اعتمادسے جڑتی ہیں۔ایران کے عوام میں پاکستان کیلئے خیرسگالی کاجذبہ بھی اسی عمل سے فروغ پائے گا۔ اسے یوں فکری اندازمیں کہاجاسکتاہے کہ معیشت اگراخلاق سے جڑی ہوتووہ محض دولت کاذریعہ نہیں رہتی بلکہ جہاں تجارت کایہ بہا ؤتعلقات کی زمین کوزرخیزبنائے گاوہاں یہ تعلقات کی تعمیرکامضبوط وسیلہ بھی بن جاتاہے۔یہ اقدام سیاسی زبان میں ایک مثبت پیغام ہے۔
اگرچہ ایران توانائی کے وسائل سے مالامال ہے،اوردنیاکے بڑے تیل اورگیس پیداکرنے والے ممالک میں شمارہوتاہے،مگرعالمی پابندیوں نے اس کی اقتصادی قوت کومحدودکر دیا ہے۔پاکستان،جواپنی توانائی کی ضروریات کیلئے دیگرخلیجی ممالک پرانحصارکرتاہے، اوراس صورتحال میں ایک محتاط توازن برقراررکھے ہوئے ہے۔پاکستان کایہ اقدام حقیقت پسندی پرمبنی ہے،وہ براہِ راست تجارت کے بجائے سہولت فراہم کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی پالیسی میں حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔پاکستان کایہ قدم براہِ راست تجارت نہیں بلکہ سہولت فراہم کرناہے،جو بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں آتاہے۔وہ براہِ راست توانائی کے شعبے میں ایران سے وابستگی بڑھانے کی بجائے ایک ایساراستہ اختیارکررہاہے جوقانونی اورسفارتی حدودمیں بھی ہواورفائدہ مندبھی۔یہ سیاست کی وہ لطیف جہت ہے جہاں اصول اورمفاد ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔اسے سفارتی رنگ میں یوں کہاجاسکتاہے کہ حکمت وہی ہے جوحالات کے ساتھ ٹکرانے کی بجائے انہیں اپنے حق میں موڑلے۔
جب رسمی بینکنگ نظام پابندیوں کے بوجھ تلے دب جائے توتجارت اپنے لیے نئے راستے تراشتی ہے۔پاکستان اورایران کے درمیان بارٹرسسٹم اسی تخلیقی مزاحمت کی ایک مثال ہے،جس کے تحت اشیاکے بدلے اشیاکاتبادلہ جاری رہا۔یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ جب رسمی راستے بندہوں توغیررسمی راستے جنم لیتے ہیں اوریہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایسی صورت میں قومیں نئے راستے تلاش کرلیتی ہیں۔یہ نظام بظاہرقدیم محسوس ہوتاہے،مگردرحقیقت یہ جدیدمعاشی جمودکے خلاف ایک عملی حل ہے۔یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ معیشت کا پہیہ صرف کرنسی سے نہیں بلکہ ضرورت سے چلتاہے۔اسے شگفتہ نثرمیں یوں کہاجاسکتاہے کہ جب سکے خاموش ہوجائیں توضرورت خودزبان بن جاتی ہے،اورتجارت اپنی نئی لغت ترتیب دیتی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیاپاکستان عالمی پابندیوں کے باوجودایران کوٹرانزٹ سہولت فراہم کرسکتاہے؟اس کاجواب بین الاقوامی قانون میں پوشیدہ ہے۔اقوامِ متحدہ کے قوانین کے تحت ٹرانزٹ فراہم کرناایک جائزعمل ہے اورسمندری قوانین کے تحت کسی ایسے ملک کو،جوعملی طورپرلینڈلاک ہوچکاہو،تجارتی راہداری فراہم کرناایک جائزعمل ہے۔پاکستان نے اسی قانونی بنیادکوپیشِ نظررکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایاہے،جس سے اسے عالمی دباؤکاسامنانہیں کرناپڑے گا۔یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا خیال رکھتا ہے بلکہ عالمی قوانین کی پاسداری کوبھی مقدم جانتاہے۔اسے سفارتی اورفکری سانچے میں یوں کہاجاسکتاہے کہ عدل وہی ہے جواصولوں پرقائم ہو،اورسیاست وہی پائیدار ہوتی ہے جوانصاف کے دائرے سے باہرنہ جائے۔
پاکستان کی جانب سے ایران کیلئے تجارتی راہداریاں کھولنے کے اعلان پرامریکاکی طرف سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔بظاہریہ خاموشی ایک معمولی امرمحسوس ہوتی ہے ،مگرسفارتکاری کی دنیامیں خاموشی بھی ایک زبان رکھتی ہے اوراکثراوقات یہ زبان الفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔یہ عدمِ ردعمل اس امرکی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان نے اپنے اس فیصلے میں نہ صرف قانونی تقاضوں کوملحوظ رکھابلکہ عالمی طاقتوں کوبھی پیشگی اعتمادمیں لیا۔گویایہ اقدام کسی جذباتی جوش کانتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچاسمجھا ،نپاتلاقدم ہے۔
(جاری ہے)