پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کا عمل جاری ہے، مصدق ملک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کا عمل جاری ہے، مصدق ملک

وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اوجی ڈی سی ایل کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم نے اداروں کی رائٹ سائزنگ کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے، جس کا مقصد غیر ضروری اخراجات اور ریگولیشنز کو ختم کرنا ہے۔

پیٹرول پمپ کھولنے کے لیے مشکلات
مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت ایک پیٹرول پمپ کھولنے کے لیے سرمایہ کاروں کو 18 مختلف اداروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس قسم کی پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں ایک خاص سیاسی جماعت نے نہ صرف ملک کے اخلاقی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر یہ بیانیہ بنا رہے ہیں کہ "آئی ایم ایف پروگرام ختم کروا دو" جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

معاشی بہتری کے اعداد و شمار
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث:

مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد تک آچکی ہے
شرح سود میں کمی واقع ہو رہی ہے
ملک کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے
ملکی وسائل پر انحصار کی پالیسی
مصدق ملک نے کہا کہ حکومت اب ملکی وسائل پر انحصار بڑھانے پر کام کر رہی ہے، تاکہ توانائی کے مقامی ذرائع کو بروئے کار لایا جا سکے اور عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔

غیر ضروری قوانین کا خاتمہ
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام غیر ضروری قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے واضح ہدایات دی ہیں کہ صرف عوام کو فائدہ پہنچانے والے ادارے اور وزارتیں برقرار رکھی جائیں گی، جبکہ باقی غیر ضروری قوانین اور ریگولیشنز کو ختم کر دیا جائے گا۔وزیر پیٹرولیم کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک میں توانائی کے شعبے میں انقلاب لانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔