لیبیا؛ بیمار بیٹے کو 10 سال تک کمرے میں قید رکھنے والا سفاک باپ

لیبیا؛ بیمار بیٹے کو 10 سال تک کمرے میں قید رکھنے والا سفاک باپ

لیبیا کے سیکیورٹی اداروں نے ایک سفاک باپ کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے لرزہ خیز جرم نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

 عرب میڈیا کے مطابق لیبیا میں جرائم کی تفتیش کرنے والے ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ انہیں ایک 10 سالہ بچے کو قید میں رکھنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔اطلاع پر سیکیورٹی حکام نے ’’قصے‘‘ نامی علاقے میں کارروائی کی، جہاں بچے کو مرغی خانے سے ملحقہ ایک کمرے سے بازیاب کروایا گیا۔ بچہ شدید گھٹن، تعفن اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بچے کو قید میں رکھنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا سگا باپ تھا۔ متاثرہ بچہ آٹزم کا شکار ہے اور اسی بنیاد پر باپ نے اسے گزشتہ دس برس سے ایک کمرے میں بند کر رکھا تھا۔

حکام کے مطابق بچے نے ابتدائی بچپن کے بعد سورج کی روشنی تک نہیں دیکھی اور وہ زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم رہا۔ بچے کو فوری طور پر اجدابیا کے المقریف اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ برسوں کی غفلت اور مبینہ تشدد کے باعث اس کی حالت تشویشناک ہے اور وہ طبی نگرانی میں ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم باپ ایک تعلیم یافتہ شخص ہے اور ایک تعلیمی ادارے میں ملازم ہے، جس پر حکام نے حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ اس غیر انسانی سلوک پر ملزم کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔