بھارتی ریاست اتر پردیش سے ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک ریٹائرڈ ریلوے ملازم اوم پرکاش سنگھ راٹھور اور اس کی ذہنی طور پر معذور بیٹی راشمی کو مبینہ طور پر پانچ سال تک گھر میں قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، اوم پرکاش کی اہلیہ کے انتقال کے بعد 2016 میں یہ دونوں ایک الگ مکان میں رہنے لگے تھے اور اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے دو ملازمین بھی رکھے تھے۔ تاہم اوم پرکاش کے بھائی امر سنگھ کا الزام ہے کہ ملازمین نے گھر پر قبضہ کر لیا اور باپ و بیٹی کو کمروں میں قید رکھا، جبکہ خود آرام دہ زندگی گزار رہے تھے۔پیر کے روز اوم پرکاش کی موت کی خبر خاندان کو ملی، اور جب رشتہ دار گھر پہنچے تو منظر انتہائی خوفناک تھا۔ اوم پرکاش کی لاش گھر کے اندرونی کمرے میں کمزور حالت میں پڑی تھی، جبکہ راشمی کو ایک اندھیرے کمرے میں برہنہ اور نڈھال حالت میں پایا گیا۔ بھوک اور ناقص نگہداشت کے باعث راشمی کا جسم ضعیف شخص جیسا ہو چکا تھا اور ہڈیاں نمایاں تھیں۔
ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچانے پر اوم پرکاش کو مردہ قرار دیا، جبکہ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ فی الحال راشمی کو خاندان کی نگرانی میں رکھا گیا ہے، اور اہل خانہ نے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پڑوسیوں کے مطابق، اوم پرکاش ایک باوقار انسان تھے جو ہمیشہ صاف ستھرے کپڑوں میں نظر آتے تھے، لیکن ان کی آخری زندگی انتہائی تکلیف دہ حالات میں گزری۔