غزہ میں نسل کشی کے آثار، اسپتال تباہ: ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز

غزہ میں نسل کشی کے آثار، اسپتال تباہ: ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز

غزہ میں اسرائیلی افواج کی جارحیت کے نتیجے میں اسپتالوں کی تباہی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

"ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کی جانب سے جاری کی گئی نئی رپورٹ میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری اور اسرائیل کے حامی ممالک اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت ختم کر کے غزہ میں ہونے والی نسل کشی کو روکنے کی ذمہ داری لیں۔اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ غزہ میں اسپتالوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، جس سے علاج کی سہولتیں مکمل طور پر متاثر ہو گئی ہیں، اور اس کے نتیجے میں صحت کے شعبے میں مزید بحران پیدا ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس صورت حال کو عالمی سطح پر فوری ردعمل کی ضرورت قرار دیا ہے۔

اس دوران، غزہ میں خوراک کی فراہمی روکنے پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف عالمی عدالت سے رائے طلب کرنے کی قرار داد منظور کی ہے۔ انٹرنیشنل رائل کمیٹی کے مطابق اسرائیل کی طرف سے غزہ میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم، اس معاملے پر اسرائیل کے حامی ممالک کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی حملے اور فلسطینی شہادتیں

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ حالیہ حملوں میں 2 اسکولوں پر حملہ کیا گیا، جس میں 15 فلسطینی شہید ہو گئے۔ ان اسکولوں میں بے گھر فلسطینی پناہ گزین تھے۔ یہ حملے فلسطینیوں کے لیے ایک اور المیہ بن گئے ہیں، جہاں اسکولوں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ ایک دن میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے

غزہ کے علاوہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ طولکرم شہر میں ایک گاڑی پر حملہ کر کے 4 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ نابلوس شہر میں بھی اسرائیلی افواج کی کارروائیوں میں 80 سالہ خاتون سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔ یہ حملے اسرائیلی فوج کی بربریت کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں اور فلسطینیوں کی حالت بدتر ہو رہی ہے۔

جنگ بندی پر بات چیت میں اختلافات

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے عالمی سطح پر بات چیت جاری ہے، لیکن اس پر اختلافات برقرار ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے مختلف تجویزیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن اسرائیل کے حامی ممالک کے اثر و رسوخ کی وجہ سے عملی اقدامات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔غزہ کے اسپتالوں کی حالت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ مزید فلسطینی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔