پاکستان نے اقوام متحدہ سے غزہ میں نسل کشی فوری روکنے کا مطالبہ کردیا

پاکستان نے اقوام متحدہ سے غزہ میں نسل کشی فوری روکنے کا مطالبہ کردیا

ویب ڈیسک:پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے زور دے کر مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری، مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں انسانی بحران اور اسرائیلی مظالم پر مزید خاموشی ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

بیان کے اہم نکات:
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق فوری کارروائی کرنی چاہیے، کیونکہ عالمی برادری مزید ایک دن کی بے عملی برداشت نہیں کر سکتی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اور کتنے مظالم درکار ہیں تاکہ کونسل وہ اقدامات کرے جو اخلاقی، قانونی اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت درست ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں بلکہ نسل کشی کو روکنا ناگزیر ہے، اور اسرائیلی مظالم کو معمول کا حصہ بننے سے روکا جائے۔
غزہ میں جاری تباہی کو "انسانی ساختہ بحران" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اسرائیل کی طویل ناکا بندی، بمباری اور عام شہریوں پر حملوں کا نتیجہ ہے۔
اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی شہید، جن میں اکثریت خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ 122,000 سے زائد زخمی ہیں۔
طبی سہولیات تباہ ہو چکی ہیں، 800 سے زائد طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اسپتالوں میں بنیادی سامان کی کمی ہے اور طبی عملے پر حملے ہو رہے ہیں۔
کم از کم 57 بچے بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں، انسانی امدادی قافلوں کو روکا جا رہا ہے یا حملے کیے جا رہے ہیں۔
80 فیصد سے زائد گھر مسمار ہو چکے ہیں، پانی، بجلی اور مواصلاتی نظام تباہ ہو چکے ہیں۔
28 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں شہید ہو چکی ہیں، جبکہ 50,000 حاملہ خواتین انتہائی مشکل حالات میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔
مغربی کنارے میں بھی پرتشدد کارروائیاں اور نقل و حرکت پر پابندیاں معمول بن گئی ہیں۔
مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی دوروں کی مذمت کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔
مطالبات:
قرارداد 2735 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور شہریوں پر حملے فوری روکے جائیں۔
انسانی امدادی اداروں کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کی سخت مذمت کی جائے۔
مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے دو ریاستی حل کی بنیاد پر القدس الشریف کو خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔
بین الاقوامی تعاون:
پاکستان نے جون میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کو مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔
عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو کر فلسطینی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
اختتامیہ:
سفیر پاکستان نے زور دیا کہ اب ابہام کی کوئی گنجائش نہیں، فلسطینی عوام کی تکالیف کے لیے کوئی جواز نہیں رہا۔ "جی ہاں، بس بہت ہو چکا۔"