اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے غزہ میں مبینہ “نسل کشی جیسے اقدامات” فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 تک غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جن میں بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ Volker Türk نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں “نسل کشی جیسے اقدامات” کو فوری طور پر روکے، بے گھر فلسطینیوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے اور فلسطینی علاقوں میں اپنی موجودگی ختم کرے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسرائیل کی جانب سے بعض کارروائیوں کو یرغمالیوں کی بازیابی اور عسکری اہداف کے خلاف قرار دیا جاتا ہے، تاہم بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے، جہاں اسرائیلی فوج، پولیس اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں فلسطینی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران تقریباً 73 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے باوجود بعض علاقوں میں حملے اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس سمیت دیگر گروہوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہری علاقوں پر اندھا دھند راکٹ حملے بند کریں۔ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔